اسلام > Ur > حدیث > دعوت و احتساب > تنگی اور آسانی، نشاط اور سستی اور دوسروں کو تم پر ترجیح دیے جانے کی صورت میں بھی تم امیر ک…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «عليك السمع والطاعة في عُسْرِكَ ويُسرك، ومَنْشَطِكَ ومَكْرَهِكَ، وأثَرَة ٍعليك».
اس حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ مسلمان پر ہر حال میں اپنے حاکموں کو سن کر ان کی اطاعت کرنا کرنا لازم ہے، جب تک وہ اسے گناہ کا حکم نہ دیں یا ایسی چیز کا مکلف نہ بنائیں جس کی وہ طاقت نہ رکھتا ہو، اگرچہ یہ اس پر کسی وقت گراں گزرے یا اس کے کسی حق کے ضائع ہونے کے سبب بنے، اس لیے کہ عمومی مصلحت خصوصی مصلحت پر مقدم ہے۔
موضوعات : امام کے رعیت پر حقوق