اسلام > Ur > حدیث > سیرت و تاریخ > اے اللہ کے رسول! میرا بھانجا بیمار ہے، تو آپ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرے لیے برکت کی…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن الجعْد، قال: سمعتُ السَّائِب بن يَزيد، يقول: ذهبتْ بي خالتي إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت: يا رسول الله، إنَّ ابنَ أختي وَجِعٌ. فمَسَح رأسي ودعا لي بالبَرَكة، ثم توضَّأ، فشربتُ من وَضوئه، ثم قمتُ خَلْف ظهره، فنَظَرتُ إلى خاتَم النبوة بيْن كتِفَيْه، مثل زِرِّ الحَجَلَة.
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ ان کی خالہ انھیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئی اور عرض کیا کہ ان کا بھانجا بیمار ہے، تو آپ نے ان کے سر پر ہاتھ پھیرا اور ان کے لیے برکت کی دعا کی۔ پھر آپ نے وضو کیا، تو سائب رضی اللہ عنہ نے آپ کے اعضا سے ٹپکنے والے وضو کے پانی میں سے کچھ پیا اور اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے پیچھے کھڑے ہوئے، تو آپ کے دونوں مونڈھوں کے درمیان مہر نبوت دیکھی، جو کبوتر کے انڈے کی طرح تھی۔
موضوعات : خصائص نبوی