اسلام > Ur > حدیث > سیرت و تاریخ > اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے نہ دینار چھوڑا، نہ درہم چھوڑا، نہ بکری چھوڑی، نہ اونٹ …
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن عائشة رضي الله عنها ، قالت: «ما تَرَك رسولُ الله صلى الله عليه وسلم دينارًا، ولا درهمًا، ولا شاةً، ولا بَعِيرًا، ولا أَوْصى بشيء».
عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بتا رہی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی وفات کے بعد مال و دولت بالکل نہیں چھوڑا۔ نہ کم نہ زیادہ۔ نہ بکری نہ اونٹ اور نہ اس کے علاوہ کوئی اور مال۔ اسی طرح آپ نے کسی چیز کے بارے میں وصیت بھی نہیں کی۔ یاد رہے کہ یہاں ان کی مراد خاص طور سے مال کی وصیت ہے۔ کیونکہ انسان مال کے بارے میں وصیت اس وقت کرتا ہے، جب کوئی اس کا وارث بنتا ہو۔ جب کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ایسی کوئی چیز چھوڑی ہی نہیں تھی، جس کا کوئی وارث بنے کہ وصیت کی ضرورت پڑتی۔ ویسے آپ نے مال کے علاوہ کئی چیزوں کی وصیت کی تھی۔ مثلا نماز کی پابندی کی وصیت اور یہودیوں کو جزیرۂ عرب سے نکال باہر کرنے کی وصیت۔
موضوعات : آپ ﷺ کی وفات