اللہ کے نبی ﷺ جب نماز پڑھتے تو اپنے دونوں بازوؤں کو اس قدر کشادہ کرتے کہ آپ ﷺ کی دونوں بغل…
اسلام > Ur > حدیث > سیرت و تاریخ > اللہ کے نبی ﷺ جب نماز پڑھتے تو اپنے دونوں بازوؤں کو اس قدر کشادہ کرتے کہ آپ ﷺ کی دونوں بغل…
حدیث کے راوی: متفق عليه
صحيح
27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہ
حدیث کا متن: اللہ کے نبی ﷺ جب نماز پڑھتے تو اپنے دونوں بازوؤں کو اس…
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ابْنِ بُحَيْنَةَ رضي الله عنه: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا صَلَّى فَرَّجَ بَيْنَ يَدَيْهِ حَتَّى يَبْدُوَ بَيَاضُ إِبْطَيْهِ.
حدیث کی وضاحت: اللہ کے نبی ﷺ جب نماز پڑھتے تو اپنے دونوں بازوؤں کو اس…
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب سجدہ کرتے تو سجدے کے دوران دونوں ہاتھوں کو پہلوؤں سے اس قدر الگ رکھتے کہ دونوں بغلوں کی چمڑی کی سفیدی نظر آتی۔ یہ دراصل دونوں بازوؤں کو دونوں پہلوؤں سے الگ رکھنے میں مبالغہ ہے۔
اسباق: اللہ کے نبی ﷺ جب نماز پڑھتے تو اپنے دونوں بازوؤں کو اس…
- سجدے کی حالت میں دونوں بازوؤں کو دونوں پہلوؤں سے الگ رکھنا مستحب ہے۔
- جب مقتدی کے دونوں بازوؤں کو زیادہ کھولنے کی وجہ سے اس کے بغل والے انسان کو تکلیف ہونے لگے، تو یہ اس کے حق میں مشروع نہيں ہوگا۔
- سجدے کی حالت میں بازوؤں کو پہلوؤں سے الگ رکھنے کے پیچھے بہت سی حکمتیں اور اس کے بہت سے فائدے ہیں۔ جیسے نماز میں رغبت اور چستی دکھانا اور یہ کہ جب انسان سجدے کے تمام اعضا کو زمین پر رکھ دیتا ہے، تو ہر عضو عبادت میں محو ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اس کی حکمت یہ بتاتے ہیں کہ یہ کیفیت تواضع سے زیادہ مشابہ اور چہرے اور ناک کو اچھے سے زمین پر رکھنے میں زیادہ معاون ہے۔ اس سے ہر عضو الگ الگ بھی نظر آتا ہے۔
موضوعات :
نماز میں آپ ﷺ کا طریقہ
بسم الله الرحمن الرحيم
منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
حسبنا الله ونعم الوكيل
اللہ ہمارے لیے کافی ہے، کیا اچھا کارساز ہے