اسلام > Ur > حدیث > سیرت و تاریخ > اگر تمہارے پاس مشکیزے میں رات کا پانی ہے تو لاؤ ورنہ پھر ہم منہ لگا کر ہی پانی پی لیتے ہیں…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما أَنَّ رسولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ على رجلٍ مِنَ الأَنْصَارِ، ومعه صاحبٌ له، فقال رسولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم : «إِنْ كان عِنْدَكَ مَاءٌ بَاتَ هذه الليلةَ في شَنَّةٍ وإِلَّا كَرَعْنَا».
جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک انصاری شخص کے ہاں تشریف لائے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ انصاری ابو الہیثم ابن التھیان انصاری رضی اللہ عنہ تھے۔ آپ ﷺ کے ہمراہ آپ کے ساتھی ابو بکر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ نبی ﷺ نے اس انصاری صحابی سے پوچھا کہ کیا ان کے پاس کوئی مشکیزے میں رات سے باسى پانی ہے؟ یہ دراصل گرمی کا وقت تھا۔ اس میں حکمت یہ تھی کہ رات سے پڑا ہوا پانی ٹھنڈا ہوتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر نہیں ہے تو پھر ہم بنا برتن اور چُلّو کے، منہ لگا کر ہی پانی پی لیں گے۔
موضوعات : آپ ﷺ کا کھانا پینا