اسلام > Ur > حدیث > عقیدہ > مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں تا آں کہ لوگ اس بات کی گواہی دینے لگیں کہ ا…
صحيح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي الله عنهما أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَيُقِيمُوا الصَّلاَةَ، وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّ الإِسْلاَمِ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ».
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ اللہ نے آپ کو مشرکوں کے ساتھ جنگ کرنے کا حکم دیا ہے، جب تک وہ اس بات کی گواہی نہ دے دیں کہ اللہ کے سوا کوئی برحق معبود نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے رسول ہیں اور گواہی کے تقاضوں پر عمل کرتے ہوئے دن اور رات میں فرض پانچ وقت کی نمازیں ادا نہ کرنے لگيں اور حق داروں کو فرض زکاۃ نہ دینے لگیں۔ جب وہ اتنا کر لیں گے، تو اللہ ان کی جان اور ان کے مال کو تحفظ فراہم کر دے گا اور ان کا قتل حلال نہیں رہ جائے گا۔ ہاں، اگر وہ ایسا جرم کر بیٹھیں کہ اس کی بنا پر اسلامی احکام کی رو سے قتل کے حق دار ٹھہر جائيں تو الگ بات ہے۔ پھر اللہ قیامت کے دن ان کا حساب لے گا، جو ان کے دلوں کی بات جانتا ہے۔
موضوعات : اسلام