اسلام > Ur > حدیث > عقیدہ > اس نے کبھی یہ نہیں کہا: اے میرے رب! قیامت کے دن میرے گناہوں کو معاف کردینا"۔
صحيح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعَنْ عَائِشَةَ رضي الله عنها قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، ابْنُ جُدْعَانَ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ يَصِلُ الرَّحِمَ، وَيُطْعِمُ الْمِسْكِينَ، فَهَلْ ذَاكَ نَافِعُهُ؟ قَالَ: «لَا يَنْفَعُهُ، إِنَّهُ لَمْ يَقُلْ يَوْمًا: رَبِّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي يَوْمَ الدِّينِ».
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ بن جدعان کے بارے میں، جو کہ اسلام سے قبل قریش کا ایک سردار تھا خبر دیا- اور اس نے رشتے داروں کے ساتھ صلہ رحمی اور مسکینوں کو کھانا کھلانے جیسے کئی اچھے کام کیے تھے، جن کی ترغیب اسلام نے دی ہے، بتایا کہ یہ اعمال آخرت میں اس کے کچھ کام نہیں آئیں گے۔ کیوں کہ وہ اللہ کے ساتھ کفر کرتا تھا اور اس نے کبھی یہ دعا نہیں کی تھی کہ اے میرے رب! قیامت کے دن میرے گناہوں کو معاف کر دینا۔