غزوہ موتہ میں میرے ہاتھ پر نو تلواریں (لڑتے لڑتے) ٹوٹ گئیں اور میرے ہاتھ میں صرف ایک یمنی …

اسلام > Ur > حدیث > عقیدہ > غزوہ موتہ میں میرے ہاتھ پر نو تلواریں (لڑتے لڑتے) ٹوٹ گئیں اور میرے ہاتھ میں صرف ایک یمنی …

حدیث کے راوی: اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 1 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: غزوہ موتہ میں میرے ہاتھ پر نو تلواریں (لڑتے لڑتے) ٹوٹ گ…

عن أبي سليمان خالد بن الوليد رضي الله عنه قال: لقد انقطعت في يدي يوم مُؤْتَةَ تسعة أسياف، فما بقي في يدي إلا صَفِيحَةٌ يمانية.

حدیث کی وضاحت: غزوہ موتہ میں میرے ہاتھ پر نو تلواریں (لڑتے لڑتے) ٹوٹ گ…

سیف اللہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اسلام کے شہسوار، میدان جہاد کے شیر اور مجاہدین کے سالار ہیں۔ زمانۂ جاہلیت میں ان کا شمار قریش کے بڑے لوگوں میں ہوتا تھا۔ انھوں نے فتحِ مکہ سے پہلے اسلام قبول کیا۔ غزوۂ احد میں وہ قریش کے لشکر کے ساتھ تھے۔ بعدازاں انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔ یہ اللہ تعالی کی قدرتِ کاملہ کی دلیل ہے اور اس سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ زمام کار اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے، وہ جسے چاہتا ہے گمراہ ہونے کے لیے چھوڑ دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دے دیتا ہے۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سن آٹھ ہجری میں پیش آنے والی جنگ موتہ میں اپنے ہاتھوں ٹوٹنے والی نَو تلواروں کی بابت بتا رہے ہیں کہ ان کے ہاتھ میں صرف ایک یمنی چوڑی تلوار باقی بچی۔ یہ ان کی شجاعت کی دلیل ہے۔ اللہ تعالی اُن سے راضی و خوش ہو۔

موضوعات : صحابہ رضی اللہ عہنہم کی فضیلت

بسم الله الرحمن الرحيم بدھ 16 جمادی الاول
الأربعاء 16 جمادى الأولى
أحدب متناقص گھٹتا ہوا گول چاند دن 16.7 / 29.5
روشنی 96%
نیا چاند 13 دنوں میں
اللهم صل على محمد اے اللہ محمد پر درود بھیج

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود