اسلام > Ur > حدیث > فضائل و آداب > ہر نبی کا کوئی نہ کوئی حواری ہوتا ہے اور میرے حواری زبیر (رضی اللہ عنہ) ہیں۔
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن جابر رضي الله عنهما قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم : «مَن يأتيني بخبر القوم؟» يوم الأحزاب. قال الزُّبير: أنا، ثم قال: «مَن يأتيني بخبر القوم؟»، قال الزُّبير: أنا، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : «إنَّ لكل نبي حَوَاريًّا، وحَوَاريِّ الزُّبير».
جب غزوۂ احزاب ہوا اور قریش و دیگر قبائل مسلمانوں سے جنگ کرنے کے لیے آئے اور رسول اللہ ﷺ نے خندق کھدوائی تو اس وقت مسلمانوں کو یہ اطلاع ملی کہ یہود کے قبیلہ بنوقریظہ نے عہد شکنی کرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف قریش کے ساتھ اتحاد کر لیا ہے۔ اس وقت نبی کریم ﷺ نے فرمایا: کون ہے جو بنو قریظہ کی خبر لائے گا؟ تو زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں آپ ﷺ تک ان کی خبریں پہنچاؤں گا۔ رسول اللہ ﷺ نے پھر دوسری مرتبہ پوچھا کہ میرے پاس بنو قریظہ کی خبر کون لائے گا؟ تو زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں لاؤں گا۔ اس وقت نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ ہر نبی کا کوئی نہ کوئی ناصر (مدد گار یا حواری) ہوتا ہے اور میرے مددگار زبیر ہیں۔
موضوعات : صحابہ رضی اللہ عنہم کے فضائل