اسلام > Ur > حدیث > فضائل و آداب > میری امت میں سے مفلس وہ شخص ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوۃ لائے گا لیکن اس نے دنیا …
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 2 منٹ مطالعہعن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعاً: «أتدرون من المفلس؟» قالوا: المُفْلِس فينا من لا دِرهَمَ له ولا مَتَاع، فقال: «إن المفلس من أمتي من يأتي يوم القيامة بصلاة وصيام وزكاة، ويأتي وقد شَتَمَ هذا، وقذف هذا، وأكل مال هذا، وسَفَكَ دم هذا، وضرب هذا، فيعطى هذا من حسناته، وهذا من حسناته، فإن فنيت حسناته قبل أن يُقْضَى ما عليه، أخذ من خطاياهم فَطُرِحتْ عليه، ثم طُرِحَ في النار».
نبی ﷺ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سے پوچھ رہے ہیں کہ کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہوتا ہے؟۔ انہوں نے آپ ﷺ کو مفلس کا وہی معنی بتایا جو لوگوں کے مابین معروف ہے یعنی وہ فقیر شخص جس کے پاس نہ تو کچھ نقدی ہو اور نہ سامان۔
نبی ﷺ نے انہیں بتایا کہ اس امت میں سے مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن بڑی بڑی نیکیاں لے کر آئے گا اور نماز، روزہ اور زکوۃ کی شکل میں اس کے بہت سے نیک اعمال ہوں گے لیکن اس نے کسی کو گالی دی ہو گی، کسی کو مارا ہو گا، کسی کا ناحق مال ہتھیایا ہو گا، کسی پر تہمت لگائی ہو گی اور کسی کا خون بہایا ہو گا اور لوگ اس سے اپنا بدلہ لینا چاہیں گے۔ جو وہ دنیا میں نہ لے سکے اسے آخرت میں وصول کریں گے۔ چنانچہ اللہ تعالی اس سے ان کا بدلہ لے گا اور یوں یہ لوگ پورے انصاف کے ساتھ بطور بدلہ اس کی نیکیاں لے لیں گے۔ اگر اس کی نیکیاں ختم ہو گئیں تو پھر ان کے گناہ لے کر اس کے کھاتے میں ڈال دیے جائیں گے اور پھر اسے دوزخ میں پھینک دیا جائے گا۔
موضوعات : فضائل و آداب · اخلاق ذمیمہ/ برے اخلاق