امابعد، اللہ کی قسم! میں کسی شخص کو دیتا ہوں اور کسی کو چھوڑ دیتا ہوں۔جب کہ جسے میں چھوڑ د…

اسلام > Ur > حدیث > فضائل و آداب > امابعد، اللہ کی قسم! میں کسی شخص کو دیتا ہوں اور کسی کو چھوڑ دیتا ہوں۔جب کہ جسے میں چھوڑ د…

حدیث کے راوی: اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 3 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: امابعد، اللہ کی قسم! میں کسی شخص کو دیتا ہوں اور کسی کو…

عن عَمْرُو بن تَغْلِبَ ـ رضي الله عنه ـ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أُتِيَ بمالٍ أو سَبْيٍ فَقَسَّمه، فأعطى رجالا، وترك رجالًا، فبَلغَه أن الَّذِين تَرَك عَتَبُوا، فحمد الله، ثم أثنى عليه، ثم قال: «أما بعد، فوالله إني لأُعطي الرجل وأدَعُ الرجلَ، والذي أدعُ أحبُّ إلي من الذي أُعطي، ولكني إنما أُعطي أقوامًا لما أرى في قلوبهم من الجَزَع والهَلَع، وَأَكِلُ أقواما إلى ما جَعَلَ الله في قُلُوبِهم من الغِنَى والخَيْر، منهم عَمْرُو بن تَغْلِبَ» قال عمرو بن تغلب: فوالله ما أُحبُّ أن لي بكلمة رسول الله صلى الله عليه وسلم حُمْرَ النَّعَم.

حدیث کی وضاحت: امابعد، اللہ کی قسم! میں کسی شخص کو دیتا ہوں اور کسی کو…

عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ ہمیں بتا رہے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ مال یا قیدی لائے گئے۔ "سبی" سے مراد دشمن کے وہ قیدی ہیں، جنہیں جنگ میں گرفتار کرکے غلام باندی بنا لیا جاتاہے۔ آپ ﷺ نے انہیں تقسیم کردیا۔ کچھ لوگوں کو دیا اور کچھ کو نہیں دیا؛ یعنی کچھ لوگوں کو ان کی تالیف قلب کے لیے دیا اور کچھ لوگوں کو اللہ تعالی نے جو قوت ایمانی اور یقین عطا کیا تھا، اس پر اعتماد کرتے ہوئے دیے بغیر ہی چھوڑ دیا۔ پھرآپ ﷺ تک یہ بات پہنچی کہ جن کو آپ ﷺ نے نہیں دیا تھا، انھوں نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ یعنی انھوں نے آپس میں آپ ﷺ کے اس عمل پرکچھ ناگواری کے انداز میں باتیں کیں، یہ گمان کرتے ہوئے کہ آپ ﷺ نے ان لوگوں کو ان کے کسی خاص دینی امتیاز کی وجہ سے دیا ہے۔ اس پر آپ ﷺ نے انھیں جمع کرکے خطبہ دیا۔ اللہ تعالی کے شایان شان حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں کسی شخص کو دیتا ہوں اور کسی کودیے بغیرہی چھوڑ دیتاہوں۔ جسے میں دیے بغیر چھوڑ دیتا ہوں، وہ مجھے اس شخص سے زیادہ محبوب ہے، جسے میں دیتاہوں“۔

یہ مراد نہیں کہ جب بعض لوگوں کو دوں اور بعض کو نہ دوں، تو یہ اس بات کی دلیل ہوگی کہ میں دوسروں کے مقابلے میں، ان سے محبت کرتا ہوں۔ بلکہ جن کو میں دیے بغیر چھوڑ دیتاہوں، وہ مجھے ان لوگوں سے زیادہ محبوب ہیں، جنھیں میں دیتا ہوں۔

پھر آپ ﷺ نے بعض کودینے اور بعض کو نہ دینے کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: میں بعض لوگوں کو ان کے دلوں میں پائی جانے والی بےصبری اور پریشانی کی وجہ سے دیتا ہوں، جو انہیں اس وقت لاحق ہوتی ہے، جب انھیں مال غنیمت میں سے حصہ نہ دیا جائے۔ چنانچہ میں ان کی تالیف قلب اور انھیں خوش کرنے کے لیے دیتا ہوں۔

”بعض لوگوں کو میں اس بے نیازی کے حوالے کردیتا ہوں، جو اللہ تعالی نے ان کے دلوں میں رکھی ہے“ یعنی کچھ لوگوں کے دلوں میں اللہ تعالی نے جو قناعت اور بے نیازی رکھی ہے، انھیں اس کے سپرد کرتے ہوئے نہیں دیتا۔

”بھلائی“ سے مراد قوت ایمان و یقین ہے۔

”عمرو بن تغلب انہیں لوگوں میں سے ہیں“ یعنی وہ لوگ جن کے ایمان پر تکیہ کرتے ہوئے میں انھیں نہیں دیتا، ان میں سے ایک عمرو بن تغلب ہیں۔

ایک اور حدیث میں آتاہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں کسی شخص کو دیتا ہوں، جب کے دوسرا شخص مجھے اس سے زیادہ محبوب ہوتاہے۔ ایسا میں اس اندیشے کی وجہ سے کرتا ہوں کہ کہیں وہ اوندھے منہ آگ میں نہ ڈال دیا جائے“۔ (صحیح مسلم)

عمرو رضی اللہ نے جب رسول اللہ ﷺ کو اپنی تعریف کرتے ہوئے سنا تو کہا: اللہ کی قسم! مجھے یہ پسند نہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی اس بات کی بجائے مجھے سرخ اونٹ مل جائیں۔ یعنی اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺ نے اپنی اس ثنا کی بدولت میری جو تکریم کی، اس کا کوئی بدیل مجھے پسند نہیں ہے، چاہے مجھے عرب کا سب سے نفیس مال، سرخ اونٹ ہی کیوں نہ دیے جا‏ئیں۔

موضوعات : اخلاقِ حمیدہ/ اچھے اخلاق · دل کے اعمال

بسم الله الرحمن الرحيم منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
بدر پورا چاند دن 16.5 / 29.5
روشنی 97%
نیا چاند 13 دنوں میں
سبحان الله اللہ کی تسبیح

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود