میں جنت کے دروازہ پر کھڑا ہوا تو اس میں اکثر داخل ہونے والے مساکین تھے اور مال وعظمت والوں…

اسلام > Ur > حدیث > فضائل و آداب > میں جنت کے دروازہ پر کھڑا ہوا تو اس میں اکثر داخل ہونے والے مساکین تھے اور مال وعظمت والوں…

حدیث کے راوی: متفق علیہ

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 1 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: میں جنت کے دروازہ پر کھڑا ہوا تو اس میں اکثر داخل ہونے…

عن أسامة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «قُمْتُ على باب الجنَّة، فإذا عامَّة من دخلها المساكين، وأصحاب الجَدِّ مَحْبُوسُونَ، غير أن أصحابَ النَّار قد أُمِرَ بهم إلى النَّار، وقُمْتُ على باب النَّار فإذا عَامَّة من دخلها النساء».

حدیث کی وضاحت: میں جنت کے دروازہ پر کھڑا ہوا تو اس میں اکثر داخل ہونے…

فقراء اور مساکین جنت میں مالداروں سے پہلے داخل ہوں گے کیونکہ وہ فقیر تھے اور ان کے پاس کوئی ایسا مال نہ تھا جس کا حساب ہونا ہو چنانچہ اللہ کی طرف سے بطور اعزاز اور دنیا کی جن نعمتوں اور زیب و زینت سے وہ محروم رہے اس کے بدلے میں (انہیں جنت میں پہلے داخل کردیا جائے گا)۔ ان کے مقابلے میں اصحاب مال وجاہ جنہیں دنیائے فانی سے حصہ ملا ہوگا انہیں میدان محشر میں روک لیا جائے گا اورکثرتِ مال، کشادگی جاہ، ان سے لذت اندوز ہونے اور ہوائے نفس اور اس کی شہوات کی پیروی کے سبب ان کا حساب لمبا ہوگا اور وہ سخت مشکل میں ہوں گے۔ دنیا میں جو شے حلال ہے اس کا حساب ہونا ہے اور جو شے حرام ہے اس پر عذاب ہونا ہے اور فقیر لوگ ان دونوں سے بری ہوتے ہیں۔ جہنم میں داخل ہونے والوں میں اکثریت عورتوں کی ہوگی کیونکہ یہ بہت زیادہ شکوے شکایت کرتی ہیں اور اپنے شوہروں کے حسنِ سلوک کی ناشکری کرتی ہیں۔

موضوعات : جنت و دوزخ کا بیان

بسم الله الرحمن الرحيم بدھ 16 جمادی الاول
الأربعاء 16 جمادى الأولى
أحدب متناقص گھٹتا ہوا گول چاند دن 17.1 / 29.5
روشنی 94%
نیا چاند 12 دنوں میں
سبحان الله وبحمده اللہ کی تسبیح اور حمد

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود