اسلام > Ur > حدیث > فضائل و آداب > ظلم قیامت کے دن اندھیروں کا باعث ہو گا۔
یہ حدیث اپنی دونوں روایات کے اعتبار سے صحیح ہے۔27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن ابن عمر رضي الله عنهما مرفوعا: «الظلم ظلمات يوم القيامة».
عن جابر رضي الله عنهما مرفوعا: «اتقوا الظلم، فإن الظلم ظلمات يوم القيامة، واتقوا الشُّحَ؛ فإنه أَهْلَكَ من كان قبلكم».
یہ دونوں حديثيں ظلم کی حرمت کے دلائل ميں سے ہیں۔ اور يہ ظلم کی تمام قسموں کو شامل ہے جن میں سے ایک اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے۔ دونوں حديثوں میں آپ ﷺ کے فرمان: ”ظلم قیامت کے دن اندھیروں کا باعث ہو گا“ کا مطلب یہ ہے کہ ظالم شخص پے در پے اندھیروں میں ڈوبا ہو گا بایں طور کہ اسے قیامت کے دن راہ ہی سجھائی نہ دے گی۔
دوسری حدیث میں آپ ﷺ کے فرمان: ”اور بخل وحرص سے بچو کیونکہ اسی نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک كیا ہے“ میں بخل سے باز رہنے کی تلقین ہے اور اس بات کا بیان ہے کہ جب کسی معاشرے میں بخل عام ہو جاتا ہے تو یہ ہلاکت و بربادی کی علامت ہوتی ہے کیونکہ یہ ظلم وناانصافی، جارحیت اور خون ریزی کے اسباب میں سے ہے۔
موضوعات : اخلاق ذمیمہ/ برے اخلاق