اسلام > Ur > حدیث > فضائل و آداب > کيا ميں تمہيں اللہ کے نزديک سب سے پسنديدہ کلام سے با خبر نہ کردوں؟
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن أبي ذر الغفاري رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «ألاَ أُخْبِرُكَ بِأَحَبِّ الكَلاَمِ إِلَى اللهِ؟ إنَّ أَحَبَّ الكلام إِلى الله: سبحان اللهِ وبحمدِهِ».
حديث اس بات پر دلادلت کر رہی ہے کہ اللہ رب العالمين کو سب سے پسنديدہ کلام اس کی تسبيح بيان کرنا (سُبْحَانَ اللَّهِ کہنا) ہے، اس ليے کہ تسبيح کا معنی اللہ رب العالمين كو ہر اس چيز سے منزه و پاک قرار دينا ہے جو اس کے ليے نا مناسب ہے، چاہے وہ اللہ کی شان ميں کوئی نقص ہو يا اللہ کو کسی مخلوق سے مشابہ اور مانند قراردينا ہو، يا اللہ کے ناموں ميں کج روی اختيار کرنا ہو۔ اور ’بِحَمْدِهِ‘ کہنے والے کا قول اس بات کا اعتراف ہے کہ وہ تسبیح اللہ سبحانہ کی حمد کے ساتھ تھی،پس اس میں اسی کا احسان ہے۔ نیز اس کا يہ بھی مفہوم ہو سکتا ہے کہ: ميں اللہ کی توفيق دہی سے اس کی حمد وثنا کرتے ہوئے اس کی پاکی بيان کر رہا ہوں۔ اسی ليے ’سُبْحَانَ اللَّهِ ، وبِحَمْدِهِ‘ اللہ، رب العالمين کو بہت زيادہ محبوب ہے کیوں کہ اس ميں اللہ رب العالمين کی پاکی و تقدیس اور ہر طرح کے احسان کے ساتھ تعريف شامل ہے۔
موضوعات : ذکر کے فضیلت