اسلام > Ur > حدیث > فضائل و آداب > مومن اپنے مومن بھائی کا آئینہ ہے۔
اس حديث کی سند حَسَنْ ہے۔27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن أبي هريرة رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «الْمُؤْمِنُ مِرْآةُ أَخِيهِ الْمُؤْمِنِ».
اس حدیث میں ایک بے مثل پیغمبرانہ بیان اور بلیغ (جامع ومعنى خيز) تشبیہ ہے، جو ايک مسلمان بھائی کے اپنے بھائی كے متعلق رویے کی وضاحت کرتی ہے اور اس کے تئیں اس کی ذمہ داری كا تعین کرتی ہے۔ چنانچہ مسلمان اپنے بھائی کی اچھے اخلاق کی طرف راہنمائی کرتا ہے تو وہ انہیں اپناتا ہے، اور برے اخلاق سے خبردار كرتا ہے تو وه ان سے گریز کرتا ہے۔ لہٰذا وہ اس کے ليے صیقل شدہ آئينے کے مانند ہے جو اسے اس کا سراپا حقيقى شكل میں دکھاتا ہے۔ اس حدیث سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ مومن کو نصیحت کرنا واجب ہے۔ لہٰذا جب وه اپنے بھائی کى خامیوں اور غلطیوں میں سے کسی خامی اور غلطی پر مطلع ہو تو اسے اس پر متنبہ کرے اور ان کی اصلاح کى طرف اس کی راہنمائى كرے۔ البتہ یہ نصیحت صرف اس کے اور اس کے بھائی کے مابین ہونی چاہیے، کیونکہ برسرِعام نصیحت کرنا رسوائی ہے۔
موضوعات : اخلاقِ حمیدہ/ اچھے اخلاق