میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا۔

اسلام > Ur > حدیث > فضائل و آداب > میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا۔

حدیث کے راوی: اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 1 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا۔

عن أبي جُحَيْفَة رضي الله عنه قال: كنتُ عند النبي صلى الله عليه وسلم فقال لرجل عنده: «لا آكُلُ وأنا مُتَّكِئ».

حدیث کی وضاحت: میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا۔

ابو جحیفہ وھب بن عبداللہ سوائی رضی اللہ عنہ، اس حدیث میں یہ خبر دے رہے ہیں کہ نبی ﷺ کا یہ طریقہ نہیں تھا کہ آپ ٹیک لگا کر اس طرح کھائیں کہ کسی تکیہ یا تکیہ لگانے کی کوئی اور چیز کا سہارا لیے اپنے ایک پہلو پر ٹیک لگائیں یا اس طرح کہ اپنا ایک ہاتھ زمین پر رکھیں اور اسی پر ٹیک لگائیں بلکہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام اس طرح کی بیٹھک سے بچا کرتے تھے کیونکہ یہ حالت و کیفیت، بسیارخوری وخوب کھانے کی موجب بنتی ہے اور زیادہ کھانا، سستی وبوجھل پن اور چستی کا خاتمہ کرنے والی چیز ہے، نیز بسیار خوری کے جسمانی صحت پر مضر اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں، اس لیے کہ اگر وہ ٹیک لگا کر کھائے گا تو کھانے کی گزرگاہ، سیدھی رہنے کے بجائے ایک جانب ہوجائے گی اور وہ اپنی فطری حالت میں نہ رہے گی بلکہ بسااوقات اس کی وجہ سے بھاری نقصان کا سامنا ہوتا نیز یہ کہ کھانے کے دوران ٹیک لگانا، ان حالتوں میں سے ہے جو تکبر پر دلالت کرتی ہیں اور تواضع و انکساری کے منافی ہوتی ہیں۔

موضوعات : کھانے پینے کے آداب

بسم الله الرحمن الرحيم منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
بدر پورا چاند دن 16.5 / 29.5
روشنی 97%
نیا چاند 13 دنوں میں
الله أكبر اللہ سب سے بڑا ہے

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود