اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > جب ابنِ آدم سجدے کی آیت تلاوت کر کے سجدہ کرتا ہے تو شیطان روتے ہوئے وہاں سے ہٹ جاتا ہے، …
صحیحفہرست مضامین :
27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «إذا قَرَأ ابنُ آدم السجدةَ فسجد اعْتَزَل الشيطانُ يبكي، يقول: يا وَيْلَه -وفي روايةٍ: يا وَيْلي- أُمِر ابنُ آدمَ بالسجودِ فسجدَ فله الجنة، وأُمِرتُ بالسجود فأبَيْتُ فَلِيَ النارُ».
جب ابنِ آدم سجدہ والی آیتوں میں سے کسی آیت کو پڑھتا ہے، یعنی وہ آیت کہ جس میں سجدے کا حکم ہوتا ہے اور وہ اللہ کے حکم کی بجاآوری اور اطاعت و بندگی میں رغبت کی وجہ سے سجدہ کرتا ہے تو شیطان پڑھنے والے کے پاس سے ہٹ جاتا ہے اور ابن آدم کی حصول یابی پر بطورِ حسد اپنی اس کرتوت پر حسرت و افسوس کرتے ہوئے روتا ہے کہ اس نے اس کرامت و بزرگی کو ترک کر کے لعنت و ناکامی کو پالیا۔ اور کہتا ہے: ”ہائے میری ہلاکت! ابن آدم کو سجدے کا حکم ملا تو اس نے سجدہ کیا، اس پر اسے جنت مل گئی اور مجھے سجدے کا حکم ملا تو میں نے انکار کیا، سو میرے لیے آگ ہے“ یعنی ہائے میری افسردگی اور ہلاکت، اللہ تعالیٰ نے ابن آدم کو سجدے کا حکم دیا اس نے اپنے رب کی اطاعت کی اور سجدہ کیا تو اس کے لیے جنت ہے اور مجھے سجدے کا حکم دیا میں نے تکبر کرتے ہوئے انکار کر دیا تو میرے لیے آگ ہے۔
موضوعات : سجدہ سہو، سجدہ تلاوت اور سجدہ شکر