اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > ہم ایک تاریک رات میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر میں تھےتو ہمیں پتہ نہیں چل سکا کہ قبلہ کس طرف…
حَسَنْ27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن عامر بن رَبِيعة رضي الله عنه قال: كنَّا مع النبي صلى الله عليه وسلم في سَفَر في لَيلة مُظْلِمَةٍ، فلم نَدْرِ أين القِبْلَة، فصلى كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا على حِيَالِه، فلمَّا أَصْبَحْنَا ذَكرنا ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم ، فنزل: ﴿فأينما تولوا فثم وجه الله﴾ [البقرة: 115].
نبی ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ ایک سفر میں تھے اور رات بہت اندھیری تھی۔ صحابہ کرام کو قبلے کی سمت کا یقین حاصل نہیں ہوا۔ چنانچہ انہوں نے اپنے اجتہاد کے مطابق نماز پڑھ لی، جب صبح ہوئی تو کیا دیکھتے ہیں کہ انہوں نے قبلے کی سمت کے علاوہ دوسری سمت رُخ کرکے نماز پڑھی تھی۔ چنانچہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو اس بات کی خبر دی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: ﴿وَلِلَّـهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ، فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّـهِ﴾ ”اور مشرق اور مغرب کا مالک اللہ ہی ہے۔ تم جدھر بھی منھ کرو ادھر ہی اللہ کا منھ ہے“۔ (سورہ بقرہ: 115)
موضوعات : نماز کے شرائط