اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > بلال رضی اللہ عنہ نے فجر کا وقت ہونے سے پہلے اذان دے دی تو نبی ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ دو…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن عبدالله بن عمر رضي الله عنهما أن بلالا أذَّنَ قبل طلوع الفجر، فأمره النبي صلى الله عليه وسلم أن يرجع فينادي: «ألا إن العبد قد نام، ألا إن العبد قد نام».
اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مؤذن اگر وقت اذان کے تعلق سے غلطی کر بیٹھے تو اس پر یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنی اس غلطی سے لو گوں کو آگاہ کرے کیونکہ نبی ﷺ نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا جب ان سے غلطی سرزد ہوئی کہ وہ لوگوں کے بیچ یہ اعلان کریں: سنو، بندہ سو گیا تھا۔
موضوعات : اذان اور اقامت