اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > اس نے اپنے ہاتھ خیر سے بھر لیے ہیں۔
حَسَنْ27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 2 منٹ مطالعہعن عبد الله بن أبي أوفى رضي الله عنه قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: إني لا أستطيع أن آخذ من القرآن شيئا فَعَلِّمْنِي ما يُجْزِئُنِي منه، قال: "قل: سبحان الله، والحمد لله، ولا إله إلا الله، والله أكبر، ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم"، قال: يا رسول الله، هذا لله عز وجل فما لي، قال: قل: اللهم ارْحَمْنِي وَارْزُقْنِي وَعَافِنِي وَاهْدِنِي. فلما قام قال: هكذا بيده فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «أما هذا فقد ملأ يده من الخير».
یہ حدیث ایسے شخص کے لیے نماز کا طریقہ بتا رہی ہے، جو قرآن بالکل یاد نہ کر سکتا ہو۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے ایک اعرابی کی رہ نمائی فرمائی، جو قرآن کریم میں سے کچھ بھی یاد کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا تھا کہ وہ سبحان اللہ،(اللہ ہر عیب سے پاک ہے) والحمدللہ (سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں) ولاالٰہ الا اللہ،(یعنی معبود برحق اگر کوئی ہے، تو وہ صرف اللہ ہے) واللہ اکبر، ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم (اللہ سب سے بڑا ہے اوراس کے سوا کسی میں بھی یہ طاقت نہیں کہ کسی کو ایک حال سے دوسرے حال کی طرف لے جائے) پڑھ لیا کرے۔ جب اس اعرابی نے یہ پوچھا کہ وہ نماز میں اپنے لیے کون سی دعا کرے؟ تو اسے دنیا و آخرت کی بھلائیوں پر مشتمل اس دعا کی رہ نمائی فرمائی: ”اللَّهُمَّ وَارْحَمْنِي، وَارْزُقْنِي, وَعَافِنِي, وَاهْدِنِي“ (اے اللہ! مجھ پر رحم فرما، مجھے رزق دے، راحت و عافیت سے نواز اور ہدایت سے سرفراز فرما) رسول اللہ ﷺ نے یہ دعا سیکھنے والے صحابی کے حق میں یہ فرماکر ان دعاؤں اور اذکار کی اہمیت جتلا دی کہ: ”أما هذا فقد ملأ يده من الخير“ یعنی اس نے خیر سے اپنا دامن بھر لیا۔
موضوعات : نماز کے اذکار