اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > رسول اللہ ﷺ بسا اوقات ایک عمل کو چاہتے ہوئے بھی اسے محض اس ڈر سے ترک فرما دیتے تھے کہ لوگو…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن عائشة رضي الله عنها ، قالت: «إنْ كان رسول الله صلى الله عليه وسلم لَيَدَعُ العمل، وهو يُحِبُّ أن يعملَ به خَشْيَة أن يعملَ به الناس، فَيُفْرَضَ عليهم، وما سَبَّح رسول الله صلى الله عليه وسلم سُبْحَة الضُّحى قَطُّ وإنِّي لَأُسَبِّحُهَا».
عائشہ رضی اللہ عنہا ذکر کرتی ہیں کہ نبی ﷺ کسی کام کو ترک فرما دیتے، حالاں کہ آپ ﷺ کو اس کا کرنا پسند ہوتا؛ تا کہ کہیں لوگ اس پر عمل نہ شروع کر دیں، یوں وہ ان پر فرض ہو جائے، پھر اس کی وجہ سے وہ مشقت میں مبتلا ہوں اور اس کو انجام نہ دے سکیں۔ پھر عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ چاشت کی نماز نہیں پڑھا کرتے تھے۔ علما نے اس نفی کو مداومت پر محمول کیا ہے۔ یعنی نبی ﷺ اس کی فضیلت کی وجہ سے کبھی اسے پڑھا کرتے تھے اور کبھی اس اندیشے کی تحت چھوڑ دیا کرتے تھے کہ کہیں یہ آپ ﷺ کی امت پر فرض نہ ہو جائے، جیسا کہ حدیث کی ابتدا میں عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ہے۔
موضوعات : چاشت کی نماز · آپ ﷺ کی رحمدلی