اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > پس اے لوگو! یہ نماز اپنے گھروں میں پڑھو؛ کیوںکہ فرض نماز کے سوا، انسان کی سب سے افضل نماز،…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن زيد بن ثابت رضي الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ -صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- اتَّخَذَ حُجْرَةً فِي المَسْجِدِ مِنْ حَصِيرٍ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ -صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فِيهَا لَيَالِيَ حَتَّى اجْتَمَعَ إِلَيْهِ نَاسٌ، ثُمَّ فَقَدُوا صَوْتَهُ لَيْلَةً، فَظَنُّوا أَنَّهُ قَدْ نَامَ، فَجَعَلَ بَعْضُهُمْ يَتَنَحْنَحُ؛ لِيَخْرُجَ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ: «مَا زَالَ بِكُمُ الَّذِي رَأَيْتُ مِنْ صَنِيعِكُمْ، حَتَّى خَشِيتُ أَنْ يُكْتَبَ عَلَيْكُمْ، وَلَوْ كُتِبَ عَلَيْكُمْ مَا قُمْتُمْ بِهِ، فَصَلُّوا أَيُّهَا النَّاسُ فِي بُيُوتِكُمْ، فَإِنَّ أَفْضَلَ صَلاَةِ المَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا الصَّلاَةَ المَكْتُوبةَ».
حدیث یہ بیان کرتی ہے کہ آپ ﷺ نے مسجد کے ایک کونے میں چٹائی سے حجرہ بنالیا تھا، بظاہر یہی لگتا ہے کہ وہ اعتکاف کی جگہ تھی، آپ ﷺ رات کو اس میں نماز پڑھتے تھے، لوگوں نے آپ کی آواز سنی، تو آپ کی اقتدا کرنے لگے، کچھ راتیں گزرنے کے بعد انہوں نے آپ کی آواز نہیں سنی، تو یہ خیال کیا کہ آپ سو چکے ہیں اور آپ کو جگانے کے لیے کچھ آوازیں نکالنے لگے۔ آپ ان کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ میں سویا نہیں تھا، بلکہ مجھے یہ ڈر تھا کہ کہیں یہ نماز تم پر فرض نہ کر دی جائے اور فرمایا کہ اگر یہ تم پر فرض کردی جائے، تو تم اسے قائم نہیں کرسکوگے اور فرمایا کہ تمہارے لیے اپنے گھروں میں نفل نماز پڑھنا زیادہ بہتر ہے۔
موضوعات : نفل نماز