اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > جب رمضان آئے تو تم عمرہ کر لینا۔ کیوں کہ رمضان میں کیا گیا عمرہ حج کے برابر ہے۔
صحيحفہرست مضامین :
27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِامْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ سَمَّاهَا ابْنُ عَبَّاسٍ فَنَسِيتُ اسْمَهَا: «مَا مَنَعَكِ أَنْ تَحُجِّي مَعَنَا؟» قَالَتْ: لَمْ يَكُنْ لَنَا إِلَّا نَاضِحَانِ فَحَجَّ أَبُو وَلَدِهَا وَابْنُهَا عَلَى نَاضِحٍ وَتَرَكَ لَنَا نَاضِحًا نَنْضِحُ عَلَيْهِ، قَالَ: «فَإِذَا جَاءَ رَمَضَانُ فَاعْتَمِرِي، فَإِنَّ عُمْرَةً فِيهِ تَعْدِلُ حَجَّةً».
جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم حجۃ الوداع سے لوٹے، تو ایک انصاری خاتون سے، جس نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ حج نہیں کیا تھا، فرمایا : تجھے ہمارے ساتھ حج کرنے سے کس چيز نے روکا؟
اس نے عذر پیش کرتے ہوئے جواب دیا کہ اس کے گھر میں دو ہی اونٹ ہیں۔ ایک پر سوار ہو کر اس کے شوہر اور بیٹے نے حج کیا، جب کہ دوسرا کنویں سے پانی لانے کے لیے گھر پر چھوڑ گیا۔
لہذا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے بتایا کہ رمضان میں عمرہ کرنا اجر و ثواب میں حج کے برابر ہے۔
موضوعات : حج اور عمرہ کی فضیلت