اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > قبیلہ ہذیل کی دو عورتوں میں جھگڑا ہوا، ان میں سے ایک نے دوسری کو پتھر پھینک کر مارا تو وہ …
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 2 منٹ مطالعہعن أبي هُرَيْرة رضي الله عنه قال: «اقْتَتَلَتْ امْرَأَتَانِ مِنْ هُذَيْلٍ، فرمَت إحداهما الأخرى بحجر، فَقَتَلَتْهَا وَمَا فِي بَطْنِهَا فَاخْتَصَمُوا إلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَضَى رسول الله: أَنَّ دِيَةَ جَنِينِهَا غُرَّةٌ- عَبْدٌ، أَوْ وَلِيدَةٌ- وَقَضَى بِدِيَةِ المرأة على عَاقِلَتِهَا، وَوَرَّثَهَا وَلَدَهَا وَمَنْ مَعَهُمْ، فَقَامَ حَمَلُ بنُ النَّابِغَةِ الهُذَلِيُّ، فَقَالَ: يا رسول الله، كيف أغرم من لا شَرِبَ وَلا أَكَلَ، وَلا نَطَقَ وَلا اسْتَهَلَّ، فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ؟ فقال رَسول الله صلى الله عليه وسلم : «إنما هذا من إخوان الكُهَّان» من أجْل سَجْعِهِ الَّذِي سَجَعَ.
قبیلہ ہذیل کی دو عورتوں میں جو کہ آپس میں سوکن تھیں جھگڑا ہوا ،ان میں سے ایک نے دوسری کو ایک چھوٹا پتھر پھینک کر مارا جس سے عام طور پر آدمی مرتا نہیں، لیکن اس نے اسے اس کے ذریعہ قتل کر ڈالا اور اس کے پیٹ میں جو بچہ تھا اسے بھی مار ڈالا.
تو نبی ﷺ نے فیصلہ کیا: جنین کی دیت ایک غلام یا لونڈی ہے قطع نظر اس کے کہ پیٹ میں جو بچہ ہے وہ لڑکا ہے یا لڑکی اور اس کی دیت قتل کرنے والی عورت پر ہوگی۔ اور ماری گئی عورت کی دیت کا فیصلہ (اور یہ فیصلہ اس لیے دیا کیوں کہ اس قتل کا تعلق جان بوجھ کر قتل کرنے کے مشابہ تھا) دیا کہ یہ اس کے عصبہ و خاندان (اقارب) پر ہوگی کیوں کہ اس کی بنیاد آپسی تعاون اور انصاف پر تھا اور چونکہ یہ قتل جان بوجھ کر نہیں ہوا تھا۔ اور چونکہ مقتولہ کے بعد دیت اس مقتولہ کی میراث مانی جائے گی اس لئے اس کا وارث مقتولہ کی اولاد ہوگی اور اس کے ساتھ کےجو ورثاء ہونگے وہ لیں گے اور اس میں سے کچھ بھی عصبہ کو نہیں ملے گا۔
حمل بن نابغہ ہذلی نے کہا: -جو کہ قاتلہ کے والد تھے- اے للہ کے رسول! میں ایسی جان کی دیت کیوں ادا کروں جو مردہ پیدا ہوا اس نے نہ کھایا نہ پیا اور نہ ہی بولا کہ اس کا زندہ ہونا معلوم ہو سکے؟اس کو انہوں نےخطیبانہ اسلوب میں مسجع انداز سے کہا۔
رسول اللہ ﷺ کو ان کا اسلوب ناگوار لگا کیوں کہ انہوں نے شریعت کے احکام کو پر تکلف اور مسجع پیرایہ میں رد کیا جو کہ لوگوں کا مال باطل طریقہ سے کھانے والے کاہنوں کے انداز کے مشابہ تھا۔
موضوعات : دیات