رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں یہودی حاضر ہوئے اور آپ ﷺ کو بتایا کہ ان کے یہاں ایک مرد اور ایک عو…

اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں یہودی حاضر ہوئے اور آپ ﷺ کو بتایا کہ ان کے یہاں ایک مرد اور ایک عو…

حدیث کے راوی: متفق علیہ

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 2 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں یہودی حاضر ہوئے اور آپ ﷺ کو بتا…

عن عبدُ الله بنُ عمر رضي الله عنهما قال: «إن الْيهود جاءوا إلى رسول الله فَذَكَرُوا لَه: أَنَّ امرأة منهم وَرجلا زنيا. فَقَال لَهُمْ رَسُولُ الله صلى الله عليه وسلم : مَا تَجِدُون في التَّوراة، في شأْن الرَّجم؟ فَقَالوا: نَفضحهم وَيُجْلَدُون. قَال عبد الله بن سَلام: كذبتم، فيهَا آية الرَّجْم، فَأَتَوْا بِالتَّوراة فَنَشَرُوهَا، فَوَضعَ أحدهم يَده عَلَى آيَة الرَّجْم فقرأ ما قبلها وما بعدها. فَقَال لَه عبد الله بن سَلام: ارْفَعْ يدَك. فَرَفَعَ يده، فَإذا فيهَا آيَةُ الرَّجم، فَقَال: صدَقَ يا محَمَّد، فأمر بِهِما النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَرُجِما. قَال: فرأيت الرَّجلَ: يَجْنَأُ عَلَى المرأة يَقِيهَا الْحجارة».

حدیث کی وضاحت: رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں یہودی حاضر ہوئے اور آپ ﷺ کو بتا…

نبی کریم ﷺ کے عہد میں یہودیوں کے اندر ایک مرد اور عورت نے زنا کا ارتکاب کیا، تو وہ آپ ﷺ کی خدمت میں ان دونوں کا فیصلہ کرانے کے ارادے سے حاضر ہوئے۔ وہ اس گمان میں تھے کہ شاید تورات میں موجود رجم (سنگ سار کرنے) کے حکم سے ہلکی سزا انھیں مل جائے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے ان سے تورات میں موجود اللہ تعالیٰ کے حکم کی بابت دریافت فرمایا۔ آپ کے دریافت کرنے کا مقصد اس پر عمل کرنا نہیں، بلکہ ان کی جگ ہنسائی کا سامان کرنا تھا۔ لیکن انھوں نے آپ ﷺ سے جھوٹ کہا کہ ان کے یہاں زناکاری کی سزار زانی اور زانیہ کو ذلیل و رسوا کرنا ہے۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے ان کی اس بات کو جھٹلایا اور جب انھوں نے تورات کھولی، تو اس میں شادی شدہ زانی کو رجم (سنگ سار) کرنے کا حکم ملا۔ چنانچہ آپ ﷺ کے حکم سے دونوں کو سنگ سار کیا گیا۔ ہماری شریعت دوسری تمام شریعتوں پر حاکم اور ان تمام شریعتون کی ناسخ ہے۔ البتہ نبی ﷺ نے اس حدیث میں یہودیوں سے رجم کی سزا کے تئیں تورات کا حکم صرف اس لیے دریافت کیا تاکہ ان پر ان ہی کی کتاب سے حجت قائم ہوجائے جس کے بارے میں وہ انکار کر رہے تھے کہ تورات میں شادی شدہ زانی کی سزا سنگ سار کرنا نہیں ہے، نیز اس لیے لیے بھی کہ انہیں یہ واضح کردیں کہ اللہ تعالی کی نازل کردہ کتابیں اس سزا کے حکم میں متفق ہیں جس میں (معاشرے میں) فساد پھیلانے والوں کے لیے سخت تنبیہ اور پھتکار ہے۔

موضوعات : حدِ زنا

بسم الله الرحمن الرحيم منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
بدر پورا چاند دن 16.5 / 29.5
روشنی 97%
نیا چاند 13 دنوں میں
حسبنا الله ونعم الوكيل اللہ ہمارے لیے کافی ہے، کیا اچھا کارساز ہے

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود