ایک انصاری شخص نے اپنے ایک غلام کو مدبَّرْ قرار دے دیا۔

اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > ایک انصاری شخص نے اپنے ایک غلام کو مدبَّرْ قرار دے دیا۔

حدیث کے راوی: متفق علیہ

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 2 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: ایک انصاری شخص نے اپنے ایک غلام کو مدبَّرْ قرار دے دیا۔

عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما قال: دَبَّرَ رَجُلٌ مِنْ الأَنْصَارِ غُلاماً لَهُ-، وَفِي لَفْظٍ: بَلَغَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم : أَنَّ رَجُلاً مِنْ أَصْحَابِهِ أَعْتَقَ غُلاماً لَهُ عنْ دُبُرٍ- لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ فَبَاعَهُ رَسُولُ الله بِثَمَانِمِائَةِ دِرْهَمٍ، ثُمَّ أَرْسَلَ ثَمَنَهُ إلَيْهِ.

حدیث کی وضاحت: ایک انصاری شخص نے اپنے ایک غلام کو مدبَّرْ قرار دے دیا۔

ایک انصاری آدمی نے اپنے غلام کی آزادی کو اپنی موت کے ساتھ معلق کر دیا(اسی کو غلاموں کی تدبیر کہتے ہیں)۔ اس غلام کے علاوہ اس کے پاس کوئی دوسرا مال نہیں تھا۔ جب نبی ﷺ تک یہ بات پہنچی تو آپ ﷺ نے اس آزادی کو تفریط گردانتے ہوئے اس کے اس فعل کی تایید نہیں فرمائی بلکہ آپ ﷺ نےاسے مسترد کرتے ہوئے اس غلام کو آٹھ سو درہم کے عوض بیچ دیا اور یہ دراہم اس کی طرف بھیج دیئے۔ اس شخص کا اپنی اور اپنے اہل خانہ کی کفالت کرنا آزاد کرنے سے بہتر اور افضل تھا تاکہ وہ لوگوں کا دست نگر نہ ہو جائے۔

اس طرح کی احادیث میں ایسے احکام ہوتے ہیں جن سے انسان کو واقف ہو نا چاہیے، اگرچہ وہ ان پر عمل نہ ہی کرے۔ یہ مناسب نہیں کہ اس حجت کی بنا پر وہ انھیں سیکھنا اور سمجھنا ہی چھوڑ دے کہ آج کل غلام پائے ہی نہیں جاتے۔ غلامی افریقہ کے بعض علاقوں میں ابھی بھی موجود ہے اور ہو سکتا ہے کہ یہ پھر سے رائج ہو جائے جب کہ یہ قدیم زمانے سے لے کر اسلام کی آمد اور اس کے بعد تک موجود رہی ہے۔ تاہم غلامی کی صورت میں اسلام حریت اور آزادی کی طرف میلان رکھتا ہے۔

موضوعات : غلامی وآزادی

بسم الله الرحمن الرحيم منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
بدر پورا چاند دن 16.5 / 29.5
روشنی 97%
نیا چاند 13 دنوں میں
أستغفر الله میں اللہ سے مغفرت مانگتا ہوں

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود