اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > جو شخص مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے، تو اسے چاہیے کہ اپنے مال کے ذریعے غلام کو پو…
صحیحفہرست مضامین :
27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن أبي هريرة رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من أعتق شِقْصَاً مِنْ مملوك، فعليهِ خَلاصُهُ كله في ماله، فإِنْ لم يكن له مال؛ قُوِّمَ المملوك قِيمَةَ عَدْلٍ، ثمَّ اُسْتُسْعِيَ العبد، غير مَشْقُوقٍ عليه».
جس نے اپنے زیر ملکیت غلام کا ایک حصہ آزاد کر دیا، اس پر لازم ہے کہ وہ پورے غلام کو آزاد کردے، اگر اس کے پاس اتنا مال ہو۔ یعنی اپنا حصہ آزاد کرنے والے کے پاس اتنا مال ہو کہ وہ غلام میں اپنے حصہ داروں کو ان کے حصوں کی قیمت ادا کر کےاسے پورا آزاد کر سکتا ہو۔ البتہ اگر اس کے پاس مال نہ ہو یا مال تو ہو لیکن اتنا نہ ہو کہ آزادی کا خرچ برداشت کر سکے یا پھر ایسا کرنے سے اسے کوئی نقصان ہو، تواس صورت میں وہ غلام کو دو امور کا اختیار دے گا۔
اول:یہ کہ غلام کا اس قدر حصہ ملک میں رہے جو باقی ہے۔ چنانچہ اس صورت میں یہ غلام "مبعض" ہو گا۔ یعنی اس کا بعض حصہ غلام ہو گا اور بعض آزاد۔ اس صورت میں اس کے لیے جائز ہے کہ وہ جزوى غلام بن کر رہے۔
دوم:وہ غلام اس شخص کو رقم ادا کرنے کے لیے کام کرے جس نے اپنا حصہ آزاد نہیں کیا، بعد اس کے کہ غلام کی منصفانہ انداز میں قیمت لگوائی جائے۔ اسے استسعا کہا جاتا ہے۔
موضوعات : غلامی وآزادی