رسول اللہ ﷺ مکہ میں ثنیہ بالا کے مقام کداء سے جو بطحا میں ہے، داخل ہوئے تھے اور ثنیہ زیریں…

اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > رسول اللہ ﷺ مکہ میں ثنیہ بالا کے مقام کداء سے جو بطحا میں ہے، داخل ہوئے تھے اور ثنیہ زیریں…

حدیث کے راوی: متفق علیہ

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 2 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: رسول اللہ ﷺ مکہ میں ثنیہ بالا کے مقام کداء سے جو بطحا م…

عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما «أنَّ رسُول الله -صلَّى الله عليه وسلَّم- دَخَل مكَّة مِن كَدَاٍء، مِن الثَنِيَّة العُليَا التِّي بالبَطحَاءِ، وخرج من الثَنِيَّة السُفلَى».

حدیث کی وضاحت: رسول اللہ ﷺ مکہ میں ثنیہ بالا کے مقام کداء سے جو بطحا م…

نبی ﷺ نے حجۃ الوداع کیا تو ذی الحجہ کی چار تاریخ کو جب آپ ﷺ (مکہ میں) داخل ہوئے تو وہ رات آپ ﷺ نے مقام ذی طوی پر گزاری اور صبح کو آپ ﷺ ثنیہ علیا (بالائی حصے) کی طرف سے مکہ میں داخل ہوئے کیوں کہ اس جگہ سے داخل ہونا آسان ہے اس لیے کہ آپ ﷺ مدینہ سے تشریف لا رہے تھے۔ جب آپ ﷺ مناسک حج سے فارغ ہوئے تو مکہ کے نشیبی علاقے سے ہوتے ہوئے مدینہ کی طر ف نکلے۔ یہ وہ راستہ ہے جو جرول کے مقام سے گزرتا ہے۔ شاید آپ ﷺ نے دو مختلف راستے اس لیے اپنائے تاکہ عبادت کے مقامات کی کثرت ہو جیسا کہ آپ ﷺ نے عرفہ جاتے اور وہاں سے واپس آتے ہوئے کیا یا جیسا آپ ﷺ کا نماز عید اور نوافل میں معمول تھا کہ انھیں آپ فرض نماز کی جگہ کے بجائے دوسری جگہ پر ادا کرتے تھے تاکہ روزِ قیامت جس دن زمین اپنی خبریں دے گی اس دن وہ آپ ﷺ کے عمل کی گواہی دے یا پھر ایسا کرنے کی وجہ یہ تھی کی جس راستے سے آپ داخل ہوئے تھے یا جس راستے سے نکلے تھے وہ مدینے سے آنے اور اس کی طرف جانے والوں کے لیےموزوں ترین تھے۔ واللہ اعلم

موضوعات : حج اور عمرہ کے احکام اور مسائل · آپ ﷺ کا سفر

بسم الله الرحمن الرحيم منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
بدر پورا چاند دن 16.5 / 29.5
روشنی 97%
نیا چاند 13 دنوں میں
لا حول ولا قوة إلا بالله اللہ کے بغیر کوئی طاقت اور قوت نہیں

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود