اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > نبی ﷺ ظہر کی نماز ٹھیک دوپہر میں پڑھا کرتے، عصر کی نماز اس وقت ادا فرماتے جب کہ سورج ابھی …
صحیحفہرست مضامین :
27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 2 منٹ مطالعہعن جابر بن عبد الله الأنصاري رضي الله عنهما قال: «كَانَ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي الظُّهْرَ بِالهَاجِرَة، والعَصرَ والشَّمسُ نَقِيَّة، والمَغرِب إِذَا وَجَبَت، والعِشَاء أَحيَانًا وأَحيَانًا: إِذَا رَآهُم اجتَمَعُوا عَجَّل، وَإِذَا رَآهُم أَبْطَئُوا أًخَّر، والصُّبحُ كان النبي صلى الله عليه وسلم يُصَلِّيهَا بِغَلَس».
اس حدیث میں نمازِ پنجگانہ کی ادائیگی کے افضل وقت کا بیان ہے۔
نماز ِظہر کا وقت تب ہوتا ہے، جب سورج عین وسطِ آسمان سے کچھ ہٹ جائے۔ یہی زوال کا وقت ہوتا ہے۔ یہ ظہر کی نماز کا ابتدائی وقت ہے۔ تاہم اگر گرمی اتنی زیادہ ہو کہ اس سے نمازی متاثر ہوتے ہوں، تو اس صورت میں نماز میں تاخیر کرنا افضل ہے، یہاں تک کہ فضا میں کچھ ٹھنڈک آ جائے جیسا کہ دیگر دلائل میں آیا ہے۔
عصر کی نماز اس وقت ادا کی جاتی ہے، جب سورج ابھی سفید اور صاف ہو اور بوقت غروب پیدا ہونے والی زردی کی اس میں آمیزش نہ ہو ئی ہو۔ اس کا وقت تب شروع ہوتا ہے، جب ہر شے کا سایہ، زوال کا سایہ نکالنے کےبعد اس شے کے مثل ہو جائے۔
مغرب کی نماز اس وقت پڑھی جاتی ہے، جب سورج غروب ہو جائے۔
البتہ عشا کی نماز میں مقتدیوں کی حالت کو ملحوظ رکھا جاتا ہے۔ اگر وہ عشا کے ابتدائی وقت، یعنی شفق کی سرخی زائل ہو نے پر آ جائیں، تو وہ اس وقت نماز پڑھ لیں اور اگر اس وقت نہ آئیں، تو امام اسے رات کے تقریبا ابتدائی نصف حصے تک موخر کرے۔ اگر دشواری کا اندیشہ نہ ہوتا، تو یہی اس کا افضل وقت تھا۔
صبح کی نماز کا وقت تب ہوتا ہے جب روشنی کی اندھیرے کے ساتھ آمیزش شروع ہوتی ہے۔
موضوعات : نماز کے شرائط