اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > جو مسلمان آدمی اللہ کے راستہ میں اونٹنی کے تھنوں میں دودھ اترنے کے وقفے برابر بھی قتال کرے…
صحیحفہرست مضامین :
27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن معاذ رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «مَنْ قاتل في سَبِيل الله من رَجُل مُسْلم فُوَاقَ نَاقَة، وجَبَتْ له الجنة، ومن جُرح جُرْحًا في سَبِيل الله أو نُكِبَ نَكْبَةً فإنها تَجِيء يوم القيامة كَأَغزَرِ ما كانت: لونُها الزَّعْفَرَانُ، وريُحها كالمِسك».
جو کوئی مسلمان اللہ کے راستہ میں تھوڑی دیر کے لیے بھی جہاد کرے گا، مثلاً اتنی دیر جہاد کیا جتنا کسی اونٹنی کو دوبارہ دوہنے کا وقفہ ہوتا ہے، مطلب یہ ہے کہ اونٹنی کو دوہا جاتا ہے پھر اسے چھوڑ دیا جاتا ہے تاکہ وہ بچے کو دددھ پلائے، پھر دودھ چھاتی میں لوٹ آئے اس کے بعد دوبارہ اسے دوہا جائے، تو اس پر جنت واجب ہو جائے گی۔ اور جس کو اللہ کی راہ میں کوئی زخم لگ جائے، مثلاً وہ گھوڑے کے اوپر سے گر کر زخمی ہو جائے یا تلوار وغیرہ کی ضرب لگ جائے، اگرچہ زخم ہلکا ہی کیوں نہ ہو، تو وہ قیامت کے صن اس حال میں آئے گا کہ اس کے زخم سے کثرت کے ساتھ خون نکلے گا، مگر اس کا رنگ زعفرانی ہوگا اور اس کی خوشبو سب سے بہتر خوشبو یعنی مشک کی خوشبو کی مانند ہوگی۔
موضوعات : جہاد کی فضیلت