اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > جوایمان کے ساتھ اور اجر و ثواب کے حصول کی نیت سے شب قدر میں قیام کرتا ہے، اس کے پچھلے گناہ…
صحيح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «مَنْ يَقُمْ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ»
اللہ کے نبی ﷺ یہاں شب قدر کی فضیلت بیان کر رہے ہيں، جو ماہِ رمضان کی آخری دس راتوں میں سے کوئی ایک رات ہوا کرتی ہے۔ اس رات کی فضیلت یہ ہے کہ جس نے اس رات کی فضیلت پر یقین رکھتے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی خوش نودی حاصل کرنے کی نیت سے اس میں جاگ کر نماز پڑھی، دعا کی، قرآن کی تلاوت کی، ذکر و اذکار میں مشغول رہا اور اپنے عمل کو ریاکاری اور شہرت طلبی کی آلائشوں سے پاک رکھا، تو اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔
موضوعات : قیام اللیل · رمضان کا آخری عشرہ