کسی مسلمان کا خون صرف تین وجہ سے جائز ہوتا ہے

اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > کسی مسلمان کا خون صرف تین وجہ سے جائز ہوتا ہے

حدیث کے راوی: متفق عليه

صحيح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 1 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: کسی مسلمان کا خون صرف تین وجہ سے جائز ہوتا ہے

عَنِ ابنِ مَسعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ: الثَّيِّبُ الزَّانِي، وَالنَّفْسُ بِالنَّفْسِ، وَالتَّارِكُ لِدِينِهِ المُفَارِقُ لِلْجَمَاعَةِ».

حدیث کی وضاحت: کسی مسلمان کا خون صرف تین وجہ سے جائز ہوتا ہے

اللہ کے نبی ﷺ فرما رہے ہیں کہ مسلمان کا خون بہانا حرام ہے اور اس کی اجازت صرف اسی وقت دی جا سکتی ہے، جب اس سے درج ذیل تین کاموں میں سے کوئی ایک کام سرزد ہو جائے : پہلا : جس نے عقد صحیح کی بنیاد پر نکاح کرنے کے باوجود زنا کاری کی۔ ایسے شخص کو سنگ سار کیا جائے گا۔ دوسرا : جس نے کسی معصوم انسان کو جان بوجھ کر ناحق قتل کر دیا۔ ایسے شخص کو کچھ شرطوں کے ساتھ قتل کر دیا جائے گا۔ تیسرا : جو مسلمانوں کی جماعت سے نکل گیا ہو۔ خواہ اپنے مذہب یعنی اسلام کو پورے طور پر چھوڑ کر مرتد ہو گیا ہو یا پھر مرتد تو نہ ہوا ہو، لیکن اسلام کی بعض تعلیمات سے روگردانی کر کے مسلمانوں کی جماعت سے الگ ہو گیا ہو۔ جیسے بغاوت کی ہو، رہزنی کی ہو یا مسلمانوں سے مائل بہ جنگ ہو جیسے خوارج وغیرہ کا طریقہ ہے۔

اسباق: کسی مسلمان کا خون صرف تین وجہ سے جائز ہوتا ہے

موضوعات : حدود سے متعلق احکام

بسم الله الرحمن الرحيم منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
بدر پورا چاند دن 16.6 / 29.5
روشنی 96%
نیا چاند 13 دنوں میں
اللهم صل على محمد اے اللہ محمد پر درود بھیج

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود