اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > یا رسول اللہ! کیا مجھے ابوسلمہ رضی اللہ عنہ (ان کے پہلے شوہر) کے لڑکوں پر خرچ کرنے کا اجر …
صحیحفہرست مضامین :
27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن أم سلمة رضي الله عنها ، قالت: قلت: يا رسول الله، هل لي أجرٌ في بني أبي سلمة أن أُنْفِقَ عليهم، ولستُ بتاركتهم هكذا وهكذا إنما هم بَنِيَّ؟ فقال: «نعم، لك أجرُ ما أنفقتِ عليهم».
ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ اگر میں ابو سلمہ سے ہونے والے اپنے بچوں پر خرچ کروں اور ان کی کفایت کروں، تو کیا مجھے اس پر اخروی اعتبار سے ثواب ملے گا، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ میں انھیں تلاش رزق میں ادھر ادھر پھرتے ہوئے نہیں چھوڑ سکتی یا پھر مجھے ایسا کرنے پر کوئی اجر نہیں ملے گا؛ کیوں کہ میں ایسا ان پر شفقت کی وجہ سے کر رہی ہوں گی، کیوں کہ وہ میرے بیٹے ہیں؟ نبی ﷺ نے انھیں بتایا کہ ان پر خرچ کرنے کا انھیں اجر ملے گا۔
موضوعات : نفقہ/ خرچ