اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > اشعری قبیلے کے لوگ جب کسی جنگ میں مفلس ہوجائیں یا پھر مدینہ میں ان کے پاس اپنے اہل و عیال …
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن أبي موسى الأشعري رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "إنَّ الأشعريين إذا أرمَلُوا في الغَزْوِ، أو قَلَّ طعامُ عِيالِهم بالمدينةِ، جَمَعُوا ما كان عندهم في ثوبٍ واحدٍ، ثم اقتَسَمُوه بينهم في إناءٍ واحدٍ بالسَّوِيَّةِ، فَهُم مِنِّي وأنا مِنهُم".
اشعری لوگ ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کے قبیلے کے لوگ ہیں۔ جب ان کے پاس کھانے کی کمی ہوتی یا پھر وہ اللہ کے راستے میں جہاد پر ہوتے تو اپنے کھانے کو اکٹھا کر کے برابر برابر باہم تقسیم کرلیتے ۔ اپنے اس فعل کی وجہ سے وہ اس بات کے سزاوار ٹھہرے کہ ان کی رسول اللہ ﷺ کی طرف شرف و محبت کی نسبت ہو اور آپ ﷺ بھی انہی میں سے ہیں یعنی ایثار و فرمانبرداری کے عظیم اخلاقی صفت کی راہ پر گامزن ہیں۔
موضوعات : شراکت · مسلم معاشرہ