اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > اس شخص نے ابوالقاسم ﷺ کی نافرمانی کی ہے۔
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن أبي الشعثاء، قال: كنا قُعُودًا مع أبي هريرة رضي الله عنه في المسجد، فأذن المؤذن، فقام رجل من المسجد يمشي، فأَتْبَعَهُ أبو هريرة بَصَرَهُ حتى خرج من المسجد، فقال أبو هريرة: أما هذا فقد عصى أبا القاسم صلى الله عليه وسلم .
ابو شعثاء رحمہ اللہ بيان کرتے ہيں کہ ہم لوگ مسجد میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ مؤذن نے اذان دی، تو اذان کے بعد ایک آدمی کھڑا ہوکر چلنے لگا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس کی طرف ديکھنے لگے کہ کيا وہ مسجد سے باہر جانے والا ہے يا وہ کيا چاہتا ہے؟ جب انہيں پتہ چل گیا کہ وہ مسجد سے باہر نکل گیا، تو انھوں نے بتلایا کہ اس آدمی نے اپنے اس فعل کے ذریعہ نبی ﷺ کی نافرمانی کی ہے۔
موضوعات : اذان اور اقامت