اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > یہودی کہتے تھے کہ اگر عورت سے ہمبستری کے لیے کوئی پیچھے سے آئے گا تو بچہ بھینگا پیدا ہو گا…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن جابر رضي الله عنه قال: "كانت اليهود تقول: إذا جَامَعَها مِن وَرَائِها جاء الولد أَحْوَلَ، فنزلت: {نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ}، [البقرة: 223]".
یہود بغیر کسی علمی استناد کے ہیئتِ جماع سے متعلق تنگ نظری کا شکار تھے اور اوس وخزرج کے لوگ ان کے اقوال و احوال کو ان کے اہلِ کتاب ہونے کی وجہ سے لیتے تھے، یہودیوں کی منجملہ افترا پردازیوں میں سے ان کا یہ قول بھی تھا: اگر عورت سے ہمبستری کے لیے کوئی پیچھے سے آئے گا تو بچہ بھینگا پیدا ہو گا، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کرتے ہوئے اور یہ بیان کرتے ہوئے کہ یہ مباح ہے بشرطیکہ جماع قُبل میں ہو یہ آیت نازل فرمائی: ﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّىٰ شِئْتُمْ﴾ ”تمہاری بیویاں تمہاری کھیتی ہیں، سو اپنے کھیت میں آؤ جدھر سے چاہو“۔
موضوعات : نکاح کے آداب