اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک ایسے شخص کا معاملہ پیش کیا گیا جس نے ایک عورت س…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن علقمة، والأسود، قالا: أُتِيَ عبد الله في رجل تَزوجَ امرأة ولم يَفرض لها، فتُوفي قبل أن يَدخل بها، فقال عبد الله: سَلُوا هل تجدون فيها أثرا؟ قالوا: يا أبا عبد الرحمن، ما نجد فيها - يعني أثرا - قال: أقول برأيي فإن كان صوابا فمن الله، «لها كمَهْرِ نسائها، لا وَكْسَ ولا شَطَطَ، ولها الميراث، وعليها العِدَّة»، فقام رجل، من أشجع، فقال: في مثل هذا قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم فينا، في امرأة يقال لها بِرْوَع بنت وَاشِقٍ تزوجت رجلا، فمات قبل أن يَدخل بها، «فقضى لها رسول الله صلى الله عليه وسلم بمِثل صَداق نسائها، ولها الميراث، وعليها العِدَّة» فرفع عبد الله يَديْهِ وكبَّر.
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ عورت شادی کے بعد مہر متعین ہونے سے پہلے شوہر کے فوت ہو جانے سے مکمل مہر کی مستحق ہوگی؛ اگرچہ دخول و خلوت نہ حاصل ہوئی ہو۔ اگر مہر متعین نہیں کیا گیا ہے تو خاندان کی دیگر عورتوں کے مہر کے مطابق اس کا مہر متعین کیا جائے گا۔ یہ حدیث اس بات کی بھی دلیل ہے کہ ایسی عورتوں پرعدت ہے؛ کیوں کہ اس کا نکاح ہوچکا ہے، اگر شوہر کی وفات ہو جائے تو اس پر وفات وسوگ کی عدت واجب ہوگی، گرچہ دخول وخلوت نہ ہوئی ہو۔ اسی طرح وہ میراث کی مستحق ہوگی؛ کیوں کہ وہ بیوی ہے، شوہر کے اس سے شادی کرنے کی وجہ سے۔
موضوعات : حق مہر