اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > نبی ﷺ نے مدینہ اور خیبر کے درمیان تین دن تک قیام فرمایا اور وہیں صفیہ رضی اللہ عنہا سے خلو…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: أقام النبي صلى الله عليه وسلم بين خيبر والمدينة ثلاث ليال يُبْنَى عليه بصفية، فدعوتُ المسلمين إلى وليمته، وما كان فيها من خبز ولا لحم، وما كان فيها إلا أن أمر بلالا بالأنْطَاعِ فَبُسِطَتْ، فألقى عليها التمر والأقِطَ والسَّمْنَ، فقال المسلمون: إحدى أمهات المؤمنين، أو ما مَلَكَتْ يمينه؟ قالوا: إن حَجَبَهَا فهي إحدى أمهات المؤمنين، وإن لم يحجبها فهي مما ملكت يمينه، فلما ارتحل وَطَّأَ لها خَلْفَهُ، ومَدَّ الحِجَابَ.
نبی ﷺ خیبر و مدینے کے درمیان سفر کے لیے نکلے اور ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا سے شادی کے بعد ان کے ساتھ تین دن اور رات گزاری۔ نبی ﷺ نے ولیمے کا انتظام کیا۔ آپ نے انس رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ لوگوں کو کھانے کے لیے بلائیں۔ اس ولیمے میں نبی ﷺ کی خستہ حالی کی وجہ سے گوشت اور روٹی نہیں تھا؛ لیکن چمڑے کا دسترخوان لگایا گیا اور اس پر کھجور و پنیر وغیرہ پھیلایا گیا۔ لوگوں نے اس سے کھایا۔ پھر لوگ آپس میں سوال کرتے ہوئے کہنے لگے: اگر نبی ﷺ نے ان کا پردہ کرایا، تو وہ امہات المومنین میں سے ہیں؛ کیوں کہ ان پر پردہ کرنا فرض تھا اور اگر پردہ نہیں کرایا، تو وہ باندیوں میں سے ایک باندی ہیں۔ پس نبی ﷺ نے ان کے اوپر پردہ ڈالا اور اپنے پیچھے سواری میں ان کے لیے جگہ بنائی۔ اس سے لوگوں کو یقین ہو گیا کہ وہ امہات المومنین میں سے ہیں۔
موضوعات : آپ ﷺ کے ازواج مطہرات اور نبوی گھرانے کے حالات · ولیمہ