اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > تم اپنے شوہر کے نزدیک بے وقعت نہیں ہو، اگر چاہو تو میں تمہارے پاس تک رہ سکتا ہوں لیکن اگر …
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن أمَّ سَلَمَة رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لمَّا تزوَّجها أقام عندها ثلاثا، وقال: «إنه ليس بِكِ على أَهْلِكِ هَوَانٌ، إنْ شئْتِ سَبَّعْتُ لكِ، وإنْ سَبَّعْتُ لكِ، سَبَّعْتُ لِنِسائي».
ام سلمہ رضی اللہ عنہا اس وقت کی بات ذکر کر رہی ہیں جب رسول اللہ ﷺ نے ان سے شادی کی تو انہیں اس بات کا اختیار دیا کہ ان کے پاس سات رات قیام فرمائیں، پھر ہر ایک بیوی کے پاس ایسے ہی سات رات قیام فرمائیں، اور اگر چاہیں تو تین رات قیام فرمائیں، اور ہر بیوی کے پاس اس کی باری ہی میں جائیں، اس سے پہلے کہ انہیں تین رات کے قیام پر اقتصار کے لیے اختیار دیں، معذرت کے لیے تمہید باندھی اور فرمایا: ”تم اپنے شوہر کے نزدیک بے وقعت نہیں ہو“ یعنی اس میں کسی قسم کی کوئی حقارت نہیں اور نہ تم میرے نزدیک کم ہو بلکہ میرے نزدیک تم بیش قیمتی اور اہمیت کی حامل ہو، لہذا اگر تین رات مکمل قیام کے بعد باری مقرر کی تو اس میں آپ کی کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ ایسا اس لیے کہ یہی صحیح ہے۔
موضوعات : آپ ﷺ کے ازواج مطہرات اور نبوی گھرانے کے حالات · ازدواجی زندگی · آپ ﷺ کا عدل