رسول اللہ ﷺ شہد اور میٹھی چیزیں پسند کرتے تھے۔ آپ ﷺ عصر کی نماز سے فارغ ہو کر اپنی بیویوں …

اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > رسول اللہ ﷺ شہد اور میٹھی چیزیں پسند کرتے تھے۔ آپ ﷺ عصر کی نماز سے فارغ ہو کر اپنی بیویوں …

حدیث کے راوی: متفق علیہ

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 2 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: رسول اللہ ﷺ شہد اور میٹھی چیزیں پسند کرتے تھے۔ آپ ﷺ عصر…

عن عائشة، قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يحِبُّ الحَلْواء والعسل، فكان إذا صلَّى العصر دارَ على نسائه، فَيَدْنُو منهنَّ، فدَخَل على حفصة، فَاحْتَبَسَ عندها أكثرَ ممَّا كان يحْتَبِس، فسألتُ عن ذلك، فقيل لي: أهْدَتْ لها امرأة من قومها عُكَّةً من عسل، فسَقَتْ رسول الله صلى الله عليه وسلم منه شرْبة، فقلتُ: أمَا والله لنَحْتالَنَّ له، فذكرتُ ذلك لسَوْدَة، وقلتُ: إذا دخل عليكِ، فإنه سَيَدْنُو منكِ، فقولي له: يا رسول الله، أَكَلْتَ مَغَافِيرَ؟ فإنه سيقول لك: «لا»، فقولي له: ما هذه الرِّيح؟ وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يشْتَدُّ عليه أنْ يوجد منه الريح، فإنه سيقول لك: «سَقَتْني حفصة شربة عسل»، فقولي له: جَرَسَتْ نَحْلُهُ الْعُرْفُطَ، وسأقول ذلك له، وقولِيه أنتِ يا صفية، فلما دخَل على سودة قالت: تقول سودة: والذي لا إله إلا هو لقد كدتُ أن أبادئه بالذي قلتِ لي، وإنه لعلى البابِ فرقًا منكِ، فلما دَنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ، قالت: يا رسول الله، أَكَلْتَ مَغَافِيرَ؟ قال: «لا»، قالت: فما هذه الريح؟ قال: «سَقَتْني حفصة شربة عسل»، قالت: جَرَسَتْ نَحْلُهُ الْعُرْفُطَ، فلما دخل عليَّ، قلتُ له: مثل ذلك، ثم دخل على صفية، فقالت بمثل ذلك، فلما دخل على حفصة، قالت: يا رسول الله، ألا أسْقِيك منه؟ قال: «لا حاجةَ لي به»، قالت: تقول سودة: سبحان الله، والله لقد حَرَمْنَاهُ، قالت: قلتُ لها: اسْكُتِي.

حدیث کی وضاحت: رسول اللہ ﷺ شہد اور میٹھی چیزیں پسند کرتے تھے۔ آپ ﷺ عصر…

اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کھانے میں میٹھی چیزیں پسند کرتے تھے اور یہ کہ آپ ﷺ شہد کو پسند کرتے تھے، جب آپ ﷺ عصر کی نماز سے واپس آتے تو اپنی بیویوں کے پاس تشریف لے جاتے اور ان میں سے کسی کسی کو بوسہ دیتے اور جماع کے بغیر ان سے بغل گیر ہوتے۔ ایک مرتبہ آپ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گیے تو ان کے پاس کچھ زیادہ ہی دیر رُک گئے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کے بارے میں آپ ﷺ سے پوچھا، معلوم ہوا کہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو کسی نے چھوٹے ڈبے میں شہد ہدیہ کیا ہے جس میں سے آپ ﷺ پیتے ہیں، تو عائشہ رضی اللہ عنہا کو غیرت آئی اور انہوں نے سودہ و صفیہ رضی اللہ عنہما کے ساتھ اس بات پر اتفاق کیا کہ جب آپ ﷺ کسی کے پاس آئیں تو وہ آپ ﷺ سے پوچھے کہ کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے؟ مغافیر ایک قسم کے بدبو دار گوند کو کہتے ہیں اور نبی ﷺ خوشبو کے علاوہ کسی اور چیز کے بو کو ناپسند کرتے تھے، پھر جب آپ ﷺ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے تو انہوں نے شہد پیش کیا لیکن آپ ﷺ نے انکار کر دیا۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے دوبارہ نہ پینے کی قسم کھالی۔

روایات میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ آپ ﷺ نے اپنی کس بیوی کے یہاں شہد پیا، کہا گیا ہے کہ زینب رضی اللہ عنہا کے یہاں آپ نے شہد پیا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ سودہ رضی اللہ عنہا کے یہاں آپ نے شہد پیا، بعض علماء نے اس بات کو ترجیح دی ہے کہ آپ ﷺ نے زینب کے یہاں شہد پیا تھا اور عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ حفصہ رضی اللہ عنہا مخالفت کرنے والی تھیں اور بعض لوگوں نے اسے تعددِ واقعہ پر محمول کیا ہے اس لیے کہ ایک ہی چیز کے لیے تعددِ سبب کا ہونا مانع نہیں ہے، اس طرح یہ دوسرا واقعہ ہوسکتا ہے۔

موضوعات : کھانے پینے کی اشیاء کے احکام · نذریں · آپ ﷺ کی بردباری

بسم الله الرحمن الرحيم منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
بدر پورا چاند دن 16.5 / 29.5
روشنی 97%
نیا چاند 13 دنوں میں
اللهم صل على محمد اے اللہ محمد پر درود بھیج

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود