اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > نبی ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا، اس نے اپنی بیوی سے ’ظِہار‘ کر رکھا تھا اور پھر اس کے ساتھ جما…
حَسَنْ27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن ابن عباس: أن رجلا أتى النبي صلى الله عليه وسلم قد ظَاهَرَ مِنْ امرأته، فَوَقَعَ عليها، فقال: يا رسول الله، إني قد ظَاهَرْتُ مِنْ زَوْجَتِي، فَوَقَعْتُ عليها قَبْلَ أَنْ أُكَفِّرَ، فقال: «وما حَمَلَكَ على ذلك يرحمك الله؟»، قال: رَأَيْتُ خَلْخَالَهَا في ضوء القمر، قال: «فلا تَقْرَبْهَا حتى تَفْعَلَ ما أَمَرَكَ الله به».
یہ حدیث اس بات کا فائدہ دیتی ہے کہ مذکورہ صحابی اپنی بیوی سے بہت زیادہ صحبت کرنے والے تھے، رمضان آگیا اور انہیں خوف دامن گیر ہوا کہ کہیں وہ روزے کی حالت میں جماع نہ کر بیٹھیں، اس لیے انہوں نے بیوی سے ظہار کر لیا یعنی انہیں اپنی ماں، بہن اور بیٹی کے مشابہہ قرار دے کر اپنے اوپر دائمی حرام کر لیا، ایک رات وہ ان کی خدمت کر رہی تھیں کہ ان کی پنڈلی کا زیور ظاہر ہو گیا انہیں اچھا لگا اور وہ جماع کر بیٹھے، اپنے اس عمل سے وہ شرمندہ ہوئے اور نبی ﷺ کی خدمت میں مسئلہ دریافت کرنے کے لیے حاضر ہوئے، تو نبی ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ اپنی بیوی سے ظہار کرنے کی وجہ سے اللہ نے ان پر جو کفارہ واجب کیا ہے اسے پورا کیے بغیر دوبارہ جماع کے لیے اپنی بیوی کے قریب نہ ہوں، یہ حدیث ظہار کے باب میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
موضوعات : ظہار