اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > اس عورت پر نظر رکھو۔ اگر وہ گورا چٹا، سیدھے بالوں اور سرخی مائل ڈھیلی آنکھوں والا بچا جنتی…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 2 منٹ مطالعہإن هِلال بن أُمية قذف امرأته بشريك ابن سَحْماء، وكان أخا البراء بن مالك لأمه، وكان أول رجل لَاعَنَ في الإسلام، قال: فَلَاعَنَهَا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «أبصروها، فإن جاءت به أبيض سَبِطًا، قَضِيءَ الْعَيْنَيْنِ؛ فهو لهلال بن أمية، وإن جاءت به أَكْحَلَ جَعْدًا حَمْشَ السَّاقَيْنِ؛ فهو لشريك بن سحماء»، قال: فأُنبِئْت أنها جاءت به أَكْحَلَ جَعْدًا حَمْشَ السَّاقَيْنِ.
اس حدیث سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ صحابیٔ رسول ﷺ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائی کہ اس نے شریک بن سمحاء کے ساتھ زنا کیا ہےجب کہ اس کا حمل بھی ظاہر ہو چکا تھا۔ چنانچہ ان کا مقصد یہ تھا کہ وہ لعان کر کے بچے کی اپنے نسب سے نفی کر دیں۔ لعان کچھ گواہیوں کا نام ہے جو میاں بیوی کے مابین ہوتی ہیں اور ان کی تاکید قسم اور ہر اس فریق پر لعنت کے ساتھ کی جاتی ہے جو جھوٹا ہو۔ پھر آپ ﷺ نے کچھ ایسی نشانیاں بتائیں جن کے ذریعے یہ معلوم ہو سکتا تھا کہ آیا وہ اپنے باپ کا بچہ ہے یا پھر اس شخص کا بچہ ہے جس کی وجہ سے وہ عورت حاملہ ہوئی ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر اس کے بال سیدھے اور کامل ہوں تو وہ اپنے باپ کا بچہ ہو گا کیونکہ اس صورت میں ان دونوں کے مابین مشابہت ہو گی۔ اور اگر وہ سرمئی آنکھو ں والا ہوا یعنی اس کے پپوٹوں کی جڑیں بہت زیادہ کالی ہوئیں اور اس کے بال گھنگھریالے یعنی مڑے اور سکڑے ہوئے ہوں تو وہ اس شخص کا بچہ ہو گا جس نے اس عورت کے ساتھ زنا کیا ہےجو کہ شریک بن سمحاء تھا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حاملہ عورت سے لعان کرنا جائز ہے۔
موضوعات : لعان