قتل شبہِ عمد کی دیت بھی اتنی ہی سخت ہے جتنی قتلِ عمد کی ہے تاہم قتلِ شبہ عمد کے مرتکب کو ق…

اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > قتل شبہِ عمد کی دیت بھی اتنی ہی سخت ہے جتنی قتلِ عمد کی ہے تاہم قتلِ شبہ عمد کے مرتکب کو ق…

حدیث کے راوی: اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

حَسَنْ

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 1 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: قتل شبہِ عمد کی دیت بھی اتنی ہی سخت ہے جتنی قتلِ عمد کی…

عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «عَقْل شِبْهِ العمد مُغَلَّظٌ مِثْلُ عَقْلِ العَمْدِ، ولا يُقْتَلُ صَاحِبُهُ، وذلك أَنْ يَنْزُوَ الشَّيْطَانُ بين الناس، فتكون دماء في عِمِّيَّا في غير ضَغِينَة، ولا حَمْلِ سلاح».

حدیث کی وضاحت: قتل شبہِ عمد کی دیت بھی اتنی ہی سخت ہے جتنی قتلِ عمد کی…

اس حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ قتلِ شبہ عمد کی دیت بھی اتنی ہی سخت ہے جتنی قتلِ عمد کی ہے۔ قتلِ شبہ عمد یہ ہے کہ قاتل کسی ایسی شے سے مارے جس سے عام طور پر آدمی مرتا نہیں ہے جیسے لاٹھی ۔ اس دیت کی مقدار سو اونٹ ہیں جن میں تیس جذعہ ہوں گی، جذعہ سے مراد وہ اونٹنی ہے جو چار سال کی ہو اور پانچویں سال میں داخل ہو چکی ہو، تیس حقہ ہوں گی، حقہ سے مراد وہ اونٹنی ہے جو تین سال کی ہو اور چوتھے سال میں داخل ہو چکی ہو اور چالیس خلفہ یعنی حاملہ اونٹنیاں ہوں گی۔ قتلِ شبہ عمد عموماً بنا کسی دشمنی و عداوت اور بغیر اسلحہ اٹھائے ہوتا ہے۔شیطان اپنے وسوسوں کے ذریعے بسا اوقات لوگوں کے مابین ہنسی مذاق ہی میں لڑائی کرا دیتا ہے جس سے باہم مار پیٹ اور قتل واقع ہو جاتا ہے جس کا ارادہ بھی نہیں ہوتا اور یوں لوگوں کے مابین خوں ریزی ہو جاتی ہے۔

موضوعات : دیات

بسم الله الرحمن الرحيم بدھ 16 جمادی الاول
الأربعاء 16 جمادى الأولى
أحدب متناقص گھٹتا ہوا گول چاند دن 16.7 / 29.5
روشنی 96%
نیا چاند 13 دنوں میں
أستغفر الله میں اللہ سے مغفرت مانگتا ہوں

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود