کوئی شخص اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار میں لکڑی گاڑنے سے نہ روکے۔ پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہا…

اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > کوئی شخص اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار میں لکڑی گاڑنے سے نہ روکے۔ پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہا…

حدیث کے راوی: متفق علیہ

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 3 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: کوئی شخص اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار میں لکڑی گاڑنے سے نہ…

عن أبي هريرة رضي الله عنه أنّ رسولَ الله صلى الله عليه وسلم قال: «لا يمَنَعَنَّ جارٌ جاره: أن يغرِزَ خَشَبَهُ في جداره، ثم يقول أبو هريرة: ما لي أراكم عنها مُعْرِضِين؟ والله لَأرْميَنّ َبها بين أكتافكم».

حدیث کی وضاحت: کوئی شخص اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار میں لکڑی گاڑنے سے نہ…

ہمسائے کے اپنے ہمسائے پر بہت سے حقوق ہوتے ہیں جن کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ نبی ﷺ نے ہمسائے کے ساتھ تعلق بحال رکھنے کی ترغیب دی اور فرمایا کہ جبرائیل امین اس کی مسلسل تلقین فرماتے رہے یہاں تک کہ آپ ﷺ کو گمان ہونے لگا کہ وہ عنقریب ہمسائے کو وراثت میں حصہ دار ٹھہرا دیں گے کیونکہ اس کا حق بہت زیادہ ہے اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا واجب ہے۔ اسی وجہ سے ضروری ہے کہ پڑوسیوں کے مابین اچھا رہن سہن اور اچھا میل جول ہو اور وہ باہم ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھیں اور ایک دوسرے کو قولی و فعلی طور پر تکلیف پہنچانے سے گریز کریں۔ یہ بات ہمسایہ گیری اور ہمسایہ کے حقوق کا خیال رکھنے میں آتی ہے کہ پڑوسی ایک دوسرے کو وہ منافع پہنچائیں جن کا فائدہ ان کے پڑوسی کو پہنچتا ہو اور اس سے ان کو کچھ نقصان نہ ہوتا ہو۔ انہی میں سے ایک یہ ہے کہ کوئی پڑوسی اپنے ہمسائے کی دیوار پر لکڑی رکھنا چاہے۔ اگر لکڑی رکھنے والے کو اس کی ضرورت ہو اور دیوار والے کو لکڑی رکھنے سے کوئی نقصان نہ ہوتا ہو تو اس صورت میں دیوار والے کو چاہیے کہ وہ اسے وہ فائدہ اٹھانے دے جس سے اس کو کوئی نقصان نہیں ہوتا ہے خصوصاً جب اس کے ہمسائے کو اس کی ضرورت بھی ہے۔اگر وہ اس کی اجازت نہ دے تو حکمران اسے ایسا کرنے پر مجبور کرے گا۔

لیکن اگر اس سے کوئی نقصان ہوتا ہو یا پھر اس کی کوئی ضرورت نہ ہو تو پھر نقصان کو اسی طرح کے نقصان سے زائل نہیں کیا جائے گا۔ اصل کے اعتبار سے تو مسلمان کو منع کرنے کا حق ہے۔ چنانچہ اس صورت میں اس پر اجازت دینا واجب نہیں۔

چونکہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اس سنت سے جس پر بہت زور دیا گیا ہے شارع اعظم ﷺ کی مراد کو جانتے تھے چنانچہ لوگوں کی طرف سے اس پر عمل سے اعراض برتنے پر انہوں نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور انہیں دھمکی دی کہ وہ ان سے اس پر ضرور عمل کروا کر چھوڑیں گے۔ ہمسائے کے کچھ حقوق ہیں جنہیں اللہ تعالی نے فرض کیا ہے اور جن کا خیال کرنا اور پورا کرنا واجب ہے۔ علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ ہمسائے کا اپنے ہمسائے کی دیوار پر اس کی اجازت کے بغیر لکڑی رکھنا ممنوع ہے جب کہ اس کی وجہ سے کوئی نقصان ہوتا ہو کیونکہ نبی ﷺ کا فرمان ہے: نہ کسی کو نقصان پہنچاؤ اور نہ خود نقصان اٹھاؤ۔

موضوعات : صلح اور ہمسائیگی کے احکام

بسم الله الرحمن الرحيم منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
بدر پورا چاند دن 16.5 / 29.5
روشنی 97%
نیا چاند 13 دنوں میں
اللهم صل على محمد اے اللہ محمد پر درود بھیج

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود