کیا لکڑ بگھا شکار ہے؟ انھوں نے جواب دیا: ہاں۔

اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > کیا لکڑ بگھا شکار ہے؟ انھوں نے جواب دیا: ہاں۔

حدیث کے راوی: اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 1 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: کیا لکڑ بگھا شکار ہے؟ انھوں نے جواب دیا: ہاں۔

عن ابن أبي عَمَّار قال: قلت لجابر: الضَّبْع صَيْدٌ هي؟ قال: «نعم»، قال: قلتُ: آكُلُها؟ قال: «نعم»، قال: قلتُ له: أَقَالَهُ رسول الله صلى الله عليه وسلم ؟ قال: «نعم».

حدیث کی وضاحت: کیا لکڑ بگھا شکار ہے؟ انھوں نے جواب دیا: ہاں۔

ابن ابو عمار نامی تابعی نے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے لکڑ بگھا کے بارے میں پوچھا کہ کیا اس کا شکار کرنا اور اسے کھانا جائز ہے؟ تو انھوں نے جواب دیا کہ ہاں جائز ہے۔ ابن ابو عمار نے جابر رضی اللہ عنہ سے پھر پوچھا کہ کیا یہ فتوی انھوں نے اپنی رائے سے دیا ہے یا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ تو بتایا کہ انھوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔

موضوعات : شکار

بسم الله الرحمن الرحيم منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
بدر پورا چاند دن 16.5 / 29.5
روشنی 96%
نیا چاند 13 دنوں میں
أستغفر الله میں اللہ سے مغفرت مانگتا ہوں

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود