جو میت کو نہلائے اسے چاہیے کہ خود بھی نہائے اور جو جنازہ کو اٹھائے اسے چاہیے کہ وضو کر لے۔

اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > جو میت کو نہلائے اسے چاہیے کہ خود بھی نہائے اور جو جنازہ کو اٹھائے اسے چاہیے کہ وضو کر لے۔

حدیث کے راوی: اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 1 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: جو میت کو نہلائے اسے چاہیے کہ خود بھی نہائے اور جو جناز…

عن أبي هريرة رضي الله عنه : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «مَنْ غَسَّل الميـِّت فلْيَغْتَسلْ، ومَنْ حَمَلَه فلْيَتَوضَّأْ».

حدیث کی وضاحت: جو میت کو نہلائے اسے چاہیے کہ خود بھی نہائے اور جو جناز…

اس حدیث کا پہلا جملہ یہ بتاتی ہے کہ جو شخص کسی میت کو غسل دے؛ چاہے میت کسی چھوٹے کی ہو یا بڑے کی، مرد کی ہو یا عورت کی اور چاہے براہ راست اپنے ہاتھ سے غسل دے یا دونوں کے درمیان کوئی آڑ ہو، جیسے ہاتھ پر کوئی کپڑے کا چیتھڑا یا دستانہ ہو، اس کے لیے مستحب ہے کہ وہ جنابت جیسا معروف غسل کرلے۔

حدیث کے دوسرے جملے میں میت کو اٹھانے کی صورت میں وضو کاحکم دیا جارہا ہے اور یہاں وضو کی تفسیر و توضیح محض دونوں ہاتھوں کو دھولینے سے کی گئی ہے۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ آپ کے حکم سے مقصود وہ لوگ ہوں، جو میت کو اٹھانے کے خواہاں ہوں؛ تاکہ وہ اس کی نماز جنازہ ادا کرنے کے لیے تیار رہیں۔ خیال رہے کہ اس حدیث کو اس کے ظاہر پر محمول نہیں کیا جاسکتا؛ کیوں کہ کسی بھی اہل علم کی جانب سے میت کو اٹھانے کی صورت میں وضو کے واجب ہونے کا فتویٰ موجود نہیں ہے۔

موضوعات : وضو کے نواقض

بسم الله الرحمن الرحيم بدھ 16 جمادی الاول
الأربعاء 16 جمادى الأولى
أحدب متناقص گھٹتا ہوا گول چاند دن 16.7 / 29.5
روشنی 96%
نیا چاند 13 دنوں میں
الحمد لله اللہ کی حمد

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود