اسلام > Ur > حدیث > قرآن کریم اور اس کے علوم > ایک آدمی کے لیے نہایت بری بات ہے کہ وہ کہے کہ میں اتنی اور اتنی آیتیں بھول چکا ہوں۔ اصل با…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم : «بِئْسَ ما لأحَدِهم أنْ يقول نَسِيتُ آيةَ كَيْتَ وكَيْتَ، بل نُسِّيَ، واستذكِروا القرآن، فإنه أشدُّ تَفَصِّيًا مِن صدور الرِّجال من النَّعَم».
اس حدیث میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس آدمی کی مذمت کی ہے، جو کہے کہ میں یہ اور وہ آیتیں بھول چکا ہوں، کیوں کہ یہ قرآن کو یاد رکھنے کے معاملے میں سستی روا رکھنے اور غفلت سے کام لینے کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ قرآن کی دیکھ بھال اور اسے یاد رکھنے کے معاملے میں سستی کی وجہ سے اسے قرآن کو بھولنے کی سزا دی گئي ہے۔ پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے تلاوت قرآن کی پابندی، اسے یاد رکھنے اور اس کا دور کرتے رہنے کا حکم دیا ہے، کیوں کہ وہ سینوں سے نکل بھاگنے کے معاملے میں اونٹ سے بھی کہیں آگے ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے بطور خاص اونٹ کا ذکر اس لیے کیا، کیوں کہ وہ پالتو جانوروں کے ما بین بدکنے میں سب سے آگے ہے اور بدک جائے تو اسے پکڑنا بڑا دشوار ہوتا ہے۔
موضوعات : قرآن کریم میں مشغول رہنے کی فضیلت