اسلام > Ur > حدیث > قرآن کریم اور اس کے علوم > مجھے اپنی امّت کے بارے میں دو چیزوں کا خوف ہے: قرآن اور دودھ، رہی بات دودھ کی تو لوگ اسے د…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن عقبة بن عامر، يقول: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «إنِّي أخاف على أُمَّتي اثنَتَيْن: القرآنَ واللَّبَن، أما اللَّبَن فيَبْتَغُون الرِّيفَ ويتَّبِعون الشَّهَوَاتِ ويَتْركون الصلوات، وأما القرآن فيتعلَّمه المنافقون فيُجادِلون به المؤمنين».
اس حدیث میں نبی ﷺ اپنی امّت کے بارے میں ان دو چیزوں کے متعلق خدشے کا اظہار کر رہے ہیں جن کا تعلق قرآن اور دودھ سے ہے، جہاں تک دودھ کی بات ہےتو بعض لوگ اسے چراگاہوں اور کھیتوں میں طلب کرتے ہیں اور اپنی خواہشات ولذات کی پیروی کرتے ہیں، اور ان شہروں سے دور رہتے ہیں جہاں پر جمعہ وجماعت قائم کی جاتی ہے، پھر نتیجتاً دودھ کی کھوج میں نماز کو ترک کر دیتے ہیں۔ رہی بات قرآن کی تو اسے منافقین سیکھتے ہیں (اخروی) فائدہ حاصل کرنے اور اس پرعمل کرنے کے لیے نہیں بلکہ اس لیے سیکھتے ہیں تاکہ وہ اس کے ذریعہ مومنوں سے باطل حجّت کرسکیں اور مومنین کے پاس موجود حق کی تردید کر سکیں۔ بذاتِ خود دودھ اور قرآن خوف ونقصان کا محل نہیں ہیں، لیکن ان دونوں کے ذریعہ اس چیز کی تعبیر کی گئی ہے جو مجازاً ان دونوں سے متعلق ہیں۔ واللہ اعلم۔
موضوعات : قرآن کے بارے میں شہبات کا رد · ہوائے نفس اور شہوات کی مذمت