اسلام > Ur > حدیث > قرآن کریم اور اس کے علوم > ”اس قرآن کی حفاظت (دیکھ بھال) کرو اور اس كى برابر تلاوت كيا كرو۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہا…
صحيح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن أبي موسى الأشعري رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «تَعَاهَدُوا هَذَا الْقُرْآنَ، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَهُوَ أَشَدُّ تَفَلُّتًا مِنَ الْإِبِلِ فِي عُقُلِهَا».
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے قرآن کا دھیان رکھنے اور پابندی سے اس کی تلاوت کرنے کا حکم دیا ہے، تاکہ قرآن یاد ہونے کے بعد انسان کے حافظے سے نکل نہ جائے۔ آپ نے اس بات کے اندر تاکید پیدا کرنے کے لیے قسم کھاکر بتایا کہ قرآن اونٹ کے بندھن توڑ کر بھاگنے سے بھی زیادہ تیزی سے انسان کے سینے سے نکل بھاگتا ہے۔ انسان خیال رکھے تو وہ رہتا ہے اور دھیان نہ دے، تو بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔
موضوعات : قرآن کریم میں مشغول رہنے کی فضیلت