اسلام > Ur > حدیث > قرآن کریم اور اس کے علوم > تمھیں آل داود کی خوش الحانیوں میں سے ایک خوش الحانی دی گئی ہے۔
صحیحفہرست مضامین :
27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن أبي موسى الأشعري رضي الله عنه : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال له: «لقد أُوتيتَ مِزْمَاراً من مزامير آل داود».
وفي رواية لمسلم: أنّ رسول الله صلى الله عليه وسلم قال له: «لو رَأيتَنِي وأنا أستمع لقراءتك البارحة».
ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نےجب ان کی ترتیل کے ساتھ پڑھی گئی دل کش و دل نشین تلاوت سماعت فرمائی، تو ان سے فرمایا:" تمھیں آل داود کی خوش الحانیوں(اچھی آوازوں)میں سے ایک خوش الحانی دی گئی ہے۔" یعنی خود داؤد علیہ السلام ہی کی خوش الحانی۔ در اصل داؤد علیہ السلام کو بہت بلند، دل لبھانے والی عمدہ ترین آواز عطا کی گئی تھی، حتی کہ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿يَا جِبَالُ أَوِّبِي مَعَهُ وَالطَّيْرَ ۖ وَأَلَنَّا لَهُ الْحَدِيدَ﴾ ”اے پہاڑو! اس کے ساتھ رغبت سے تسبیح پڑھا کرو اور پرندوں کو بھی (یہی حکم ہے) اور ہم نے اس کے لیے لوہا نرم کردیا“۔ (سورہ سبا:10) 'آل فلان' کا اطلاق کبھی خود اسی شخص پر ہوتا ہے؛ کیوں کہ آل داؤد میں سے کسی کو بھی وہ دل کش و دل نشین آواز عطا نہیں کی گئی، جو داؤد علیہ السلام کو عطا کی گئی تھی۔
موضوعات : قرآن کریم میں مشغول رہنے کی فضیلت · صحابہ رضی اللہ عہنہم کی فضیلت